Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایسی ’ورچوئل ریئلٹی عینک‘ جو غائب چیزیں دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے

آج کل بینائی کا کمزور ہو جانا عام سی بات سمجھا جا تا ہے ، کچھ افراد کی نزدیک کی نظر کمزور ہوتی ہے تو بہت لوگوں کو دور کی نظر کی کمزوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نظر کی کمزوری بعض دفعہ پیدائشی ہوتی ہے لیکن اگر یہ جوانی یا بڑھاپے میں کمزور ہو جائے تو یہ منفی طرزِ زندگی کا نتجہ ہوتی ہے۔

نظر کمزور ہونے سے صرف دیکھنے میں ہی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ اس کمزوری کی کئی علامات ہو سکتی ہیں۔

ماہرین نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اگلی چار دہائیوں میں دنیا بھر میں نابینا افراد کی تعداد تین گنا بڑھ جائے گی۔

نیم اندھا پن کا شکار افراد کیلئے خوشخبری

آنکھوں کے امراض سے جڑی ایک بیماری نیم اندھا پن بھی ہوتی ہے۔ اس بیماری سے متاثرہ شخص کو سامنے کے منظر میں بعض اشیا دکھائی نہیں دیتیں بلکہ اس کی جگہ سیاہ دھبہ دکھائی دیتا ہے اور یہ عارضہ کسی عام عینک سے دور نہیں ہوتا۔

یہ بھی پرھیں: بہتر بینائی کے لئے ان آسان طریقوں پر عمل کریں

تاہم اب ایسے افراد کے لیے خوشخبری ہے کہ جنوبی کوریا کی کمپنی نے ان کے لیے ایک ورچوئل ریئلٹی عینک بنا لی گئی ہے جو ان کو بظاہر چھپی ہوئی چیزیں بھی واضح طور پر دکھائے گی۔

آرگس نامی یہ عینک ورچوئل ریئلٹی کے تحت کام کرتی ہے اور یہ کیفیت بالخصوص عمر رسیدہ افراد میں پائی جاتی ہے جس کو ایج ریلیٹڈ میکیولر ڈی جنریشن کا نام دیا گیا ہے۔

بینائی

اس بیماری میں سامنے کا منظر پورا دکھائی نہیں دیتا۔ دھندلا ہوتا ہے یا ایک حصہ بالکل ہی غائب ہوجاتا ہے۔

آرگس گلاسز کا سافٹ ویئر اس غائب شدہ یا دھندلے حصے کو نمایاں کرکے ظاہر کرتا ہے۔

اس میں ایک چھوٹا فورکے کیمرہ نصب ہے جو پہننے والے کے سامنے کا بھرپور عکس یا ویڈیو لیتا ہے۔

پھر اس منظر کو اسی وقت عینک میں لگے ڈسپلے میں ظاہرکیا جاتا ہے جو حقیقی انداز میں دیکھنے والے کے نظر کے دائرے میں آجاتا ہے۔

مشینی آنکھ سے 88 سالہ خاتون کی بینائی بحال

اس طرح پہننے والا اسے 1080 پکسل وضاحت میں دیکھ سکتا ہے۔

اس چشمے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کو ایک ایپ کے ذریعے اسمارٹ فون سے بھی منسلک کیا جاسکتا ہے جس کی بدولت مریض جان سکتے ہیں کہ ان کے پردہ بصارت کا کونسا حصہ متاثر ہے۔

اسی وجہ سے وہ آواز کے طور پر اس غائب منظر کو اس جگہ لے جا سکتے ہیں جہاں سے انہیں دکھائی نہیں دیتا۔

اس کے علاوہ پہننے والا صرف آواز کے حکم پر ویڈیو کو زوم کرسکتا ہے۔

پالیمر ڈسپرسڈ لکوئیڈ کرسٹل کی ایک باریک پرت عینک پر لگی ہے جو روشنی کم یا زیادہ ہونے پر ازخود اسے ایڈجسٹ کرتی ہے۔

اتنی ساری خصوصیات کا حامل ہونے کے باعث یہ عینک عام چشموں سے قدرے زیادہ وزنی ہے اور اس کا وزن 94 گرام ہے۔

یہ چشمہ کب فروخت کیلئے پیش کیا جائے گا؟

اس عینک کو اگلے سال اسے کنزیومر الیکٹرانکس شو میں پیش کیا جائے گا جسے جنوبی کوریا کی کمپنی نے بنایا ہے۔