سائنس دانوں نے سات اجزاء کی مدد سے تھری ڈی پرنٹرز کا استعمال کرتے ہوئے پہلی بار چیز کیک تیار کیا ہے۔
تھری ڈی پرنٹرچیز کیک جیسی اس ڈش کو بنانے کے لیے گراہم کریکرز، پینٹ بٹر، نیوٹیلا، بنانا پیورے، اسٹرابیری جیم، چیری ڈریزل اور اسٹرابیری فراسٹنگ کا استعمال کیا گیا۔
جرنل این پی جے سائنس آف فوڈ میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے بتایا کہ ان کے کام نے تھری ڈی فوڈ پرنٹنگ کی مستقبل کے وجود کی بنیاد ڈالی ہے۔
ویڈیو دیکھیں:
پیس یونیورسٹی میں نیوٹریشن اور ڈائیٹیٹکس کے پروفیسر کرسچین کوپر کے مطابق کم غذائیت والی پروسیسڈ غذائیں ہمارا ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ تھری ڈی فوڈ پرنٹنگ سے پروسیسڈ غذائیں تو بنیں گی لیکن غذائیت کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کھانا نگلنے کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے اس طرح کے کھانے بنائے جاسکیں گے جن کی ان مریضوں کو ضرورت ہوگی۔




















