Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بجلی کے بل میں کمی لانے والا انوکھا پینٹ تیار

فی زمانہ گھروں میں سب سے مہنگی الیکٹریسٹی ہے جس کا بل دینا اب کسی کی بس کی بات نہیں رہی تاہم سائنسدانوں نے اب مختلف رنگ لیے ایک نیا پینٹ ڈیزائن کیا ہے جو بجلی کے بل میں کمی لاسکتا ہے۔

واضح رپے کہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک نیا پینٹ ڈیزائن کیا ہے جو ایئر کنڈیشنرز اور ہیٹر پر  بڑھتے ہوئے انحصار کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ پینٹ اگر صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ بجلی کے بلوں اور اخراج کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے۔

یہ پینٹ سورج سے آنے والی مڈ انفراریڈ روشنی کا 80 فیصد تک منعکس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو روایتی رنگین پینٹ سے 10 گنا زیادہ منعکس کرتا ہے۔

مڈ انفراریڈ روشنی عام طور پر عمارت کی سطحوں پر گرمی کے طور پر جذب ہوتی ہے۔ اگر اس پینٹ کو کسی عمارت کے باہر استعمال کیاجاتا ہے تو یہ پینٹ گرمی کو باہر رکھتا ہے، تاہم  اسے اندر سے گرمی رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس طرح، پینٹ کے ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ یہ “سال بھر توانائی کی بچت کا حل” فراہم کرتا ہے جسے مختلف موسموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جب مصنوعی طور پر گرم حالات میں تجربہ کیا گیا تو، پینٹ نے بند جگہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے درکار توانائی کی مقدار کو تقریباً 21 فیصد کم کردیا۔ مصنوعی طور پر سرد حالات میں تجربہ کیا گیا، تو اس نے جگہ کو گرم کرنے کے لیے درکار توانائی کو 36 فیصد تک کم کر دیا۔

ایک پوری عمارت میں، محققین کا اندازہ ہے کہ پینٹ درمیانی اونچی اپارٹمنٹ کی عمارت کو گرم کرنے، ہوا دینے یا ٹھنڈا کرنے کے لیے درکار توانائی کا 7.4 فیصد بچا سکتا ہے۔

یہ کوئی چھوٹی رقم نہیں ہے، خاص طور پر جب اس بات پر غور کیا جائے کہ امریکہ میں عمارتیں ملک کی کل توانائی کی کھپت کا تقریباً 40 فیصد حصہ ڈالتی ہیں، اور اس میں سے زیادہ تر حرارت، وینٹیلیشن اور ایئر کنڈیشنگ کے لیے ہے۔

دنیا بھر میں، موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ درجہ حرارت زیادہ شدت کے ساتھ  بار بار بڑھ رہا ہے اور بہت سے معاملات میں، ایئر کنڈیشنر گرمی کو شکست دینے کے لیے واحد سر فہرست طریقہ ہے۔

2050 تک، کچھ اندازوں کے مطابق گرمی اتنی بڑھ جائے گی کہ ایئر کنڈیشنر دنیا کے دو تہائی گھرانوں کا حصہ ہو گا۔

اگرچہ یہ آلات بلاشبہ جانیں بچا سکتے ہیں، لیکن دوسری طرف یہ عمارتوں کو ٹھنڈا کرنے کا سب سے سستا یا سبز ترین طریقہ نہیں ہے، کیونکہ یہ کاربن کے اخراج اور فضائی آلودگی کا سبب بنے گا اور اس کے نتیجے میں کئی جانوں کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ دیگر پینٹ مڈ انفراریڈ روشنی کو منعکس کرنے میں مدد کرتے ہیں، لیکن اسٹینفورڈ کا یہ نیا ورژن صرف سفید یا سلور رنگ میں ہی نہیں بلکہ یہ مختلف رنگوں میں جیسے سفید، نیلا، سرخ، پیلا، سبز، نارنجی، جامنی اور گہرا سرمئی میں دستیاب ہے۔

اس نئے پینٹ کے ساتھ آپ اپنے گھر کو قوس قزاح کے رنگ دیں سکتے ہیں لیکن اس نئے پینٹ میں دو تہیں ہیں جو ایک سیریز میں لگائی جاتی ہیں۔ پہلی تہہ جو روشنی کو منعکس کرتی ہے  جس میں سلور ایلومینیم کے فلیکس ہوتے ہیں لگائی جاتی ہیں جبکہ دوسری ایک شفاف اوپر کی تہہ ہے جس میں رنگین غیر نامیاتی نینو پارٹیکلز ہوتے ہیں۔

یہ ڈبل لیئر ڈیزائن اس سے پہلے انفراریڈ روشنی کی دیگر طول موجوں کی عکاسی کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، اس لیے یہ مکمل طور پر منفرد نہیں ہے، حالانکہ یہ کافی موثر معلوم ہوتا ہے۔

جب اس پینٹ کو کسی عمارت کے باہر استعمال کیا جاتا ہے تو، سورج سے آنے والی انفراریڈ روشنی پینٹ کی اوپری تہہ سے گزرتی ہے اور آئینے کی طرح نیچے کی تہہ اسے واپس اوپر کی جانب کر دیتی ہے۔ اس طرح سورج سے آنے والی حرارت عمارت کے ذریعے جذب نہیں ہوتی۔

ساتھ ہی یہ دونوں پرتیں پانی کو روکتی ہیں اور مرطوب اور گرم ماحول میں کام کرتی ہیں۔

اسٹینفورڈ سے میٹر سائنسدان وی سوئی کا کہنا ہے کہ حرارت اور ائر کنڈیشنگ دونوں کے لیے ہمیں اپنے کم سے کم یعنی صفر کے اخراج کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے عالمی سطح پر توانائی اور اخراج کو کم کرنا چاہیے۔

ٹیم اپنی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنا رہی ہے اور مستقبل میں پینٹ کو تجارتی بنانے کی امید رکھتی ہے۔

یہ مطالعہ PNAS میں شائع ہوا تھا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں