سائنسدانوں نے ای کولی نامی بیکٹریا کی جنیاتی ساخت میں تبدیلی لاکر نامیاتی فضلے سے بجلی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
Escherichia coli، جسے عرف عام میں ای کولی کہا جاتا ہے، ایک چھڑی کی شکل کی طرح کا بیکٹیریا ہے جو عام طور پر جانداروں کے نچلے آنتوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم، یہ دنیا بھر میں مائکروبیل محققین کا پسندیدہ بیکٹریا بن گیا ہے کیونکہ اس کی جنیاتی ساخت میں آسانی سے تبدیلی کی جا سکتی ہے اسی لیے یہ تحقیق اور صنعتی منصوبوں کا ایک ناگزیر حصہ بن گیا ہے۔
ایک پریس ریلیز کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ای کولی پولی ٹیکنک فیڈرل دی لوسانا کے سائنسدانوں نے گندے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے لیےای کولی کو کامیابی سے انجینئر کیا ہے۔ انجینئرڈ بیکٹیریا نے گندے پانی کے سامنے آنے پر بجلی پیدا کرنے والے جانداروں سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
ٹیم نے بیکٹیریا کو انتہائی مؤثر برقی جراثیم بنانے کے لیے ایک عمل سے گزارا جسے ایکسٹرا سیلولر الیکٹرون ٹرانسفر (ای ای ٹی) کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں روایتی طریقوں کے مقابلے میں بجلی کی پیداوار میں تین گنا اضافہ ہوا۔
ای پی ایف ایل کے محققین نے ای کولی کو بجلی بنانے کے لیے استعمال کرنے سے قبل جینیاتی مشینری سے لیس کیا جس کے بعد یہ جاندار اب گندے پانی کے انتظام جیسے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

گندے پانی کا انتظام ایک ایسا عمل ہے جس میں عام طور پر نامیاتی فضلہ پر کارروائی کرنے کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے ایک مہنگا عمل بناتا ہے۔ تاہم، بائیو انجینیئرنگ کا استعمال کرتے ہوئے اس بیکٹریا کے ساتھ، محققین نامیاتی فضلہ کو ٹھکانے لگانے اور بجلی پیدا کرنے جیسے دو مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔
ای کولی بجلی کیسے پیدا کرتا ہے؟
دنیا میں متعدد مائکروبیل جاندار پائے جاتے ہیں جو خود بجلی پیدا کر سکتے ہیں ای کولی ان ہی میں سے ایک ہے۔اس مقصد کے لیے محققین نے شیوانیلا اونیڈینسس ایم آر 1 کی طرف رجوع کیا، جو ایک ایسا جاندار ہے جو اپنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیتوں کے لیے مشہور ہے۔
محققین نے شیوانیلا اونیڈینسس ایم آر-ون نامی بیکٹیریا کے حصوں کو جوڑا جو بجلی بنانے کے لیے مشہور ہے۔ سائنس دان وہ راستہ بنانے میں کامیاب ہو گئے جو خلیے کی اندرونی اور بیرونی جھلیوں تک پھیلا ہوا ہے۔
گذشتہ طریقوں کے برعکس، تبدیلی کے عمل سے گزارا گیا ای کولی مختلف قسم کے نامیاتی مادے کھا کر بجلی پیدا کرسکتا ہے۔
شیوانیلا بیکٹیریا ایکسٹرا سیلولر الیکٹران ٹرانسفر یا EET کا استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ ایک انیروبک عمل ہے، جو کہ آکسیجن کی عدم موجودگی میں ہوتا ہے۔
ایسا کرنے کے لیے درکار جینیاتی مشینری کے علاوہ، حیاتیات کو EET شروع کرنے کے لیے ماحول میں کچھ کیٹالسٹ یا مخصوص کیمیکلز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ای پی ایف ایل کی ٹیم، جس کی قیادت ای پی ایف ایل کے انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل سائنسز اینڈ انجینئرنگ کے پروفیسر آرڈیمس بوگھوسیان کر رہے ہیں نے ان مالیکیولز کی موجودگی کے بغیر ای کولی سے بجلی بنانے کا کامیاب تجربہ کیا۔
محققین کے مطابق، غیر انجنیئر شدہ جرثوموں کے برعکس، انجنیئر شدہ ای کولی نے ان تمام عمل انگیز کے بغیر ای ای ٹی کو انجام دیا۔ واضح رہے کہ ای کولی کی ساخت کو انجینئرنگ کے عمل سے اسی لیے گزارا گیا ہے تاکہ اسے عمل انگیز کی ضرورت محسوس نہ ہو اور جینیاتی طور پر درآمد شدہ راستہ سیل کی اندرونی اور بیرونی جھلیوں سے الیکٹران باہر آسکے۔
ایک بار جب یہ عمل مکمل ہوگیا تو ای کولی نے ای ای ٹی پیدا کرنے کی پچھلی کوششوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور پہلے سے تین گنا زیادہ بجلی پیدا کی۔
واضح رہے کہ ایسے جاندار کا اطلاق صرف گندے پانی سے بجلی پیدا کرنے تک ہی محدود نہیں ہے۔ اسے مزید مائکروبیل فیول سیلز، الیکٹرو سنتھیسز، اور بائیوسینسنگ ایپلی کیشنز میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
جرنل جول میں شایع ہونے والے مقالے کے سرکردہ مصنف محمد محب کا کہنا ہے کہ “ہمارا کام کافی بروقت ہے، کیونکہ انجینئرڈ بائیو الیکٹرک جرثومے زیادہ سے زیادہ حقیقی دنیا میں کار آمد ثابت ہورہے ہیں۔ اورہم بائیو الیکٹرک بیکٹیریا کے مستقبل کے بارے میں پرجوش ہیں اور ہم اس ٹیکنالوجی کو نئے پیمانے پر آگے بڑھانے کا انتظار نہیں کر سکتے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















