جسم کسی بھی پیوندکاری کی صورت میں نئے عضو کے خلاف مزاحمت پیدا کر کے اسے مسترد کردیتا ہے جسے کم کرنے اور نئے عضو کی جسم کے ساتھ بہتر مطابقت بڑھانے کے لیے مختلف ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے بہت سے مضر صحت اثرات ہوتے ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے ایک نئی اینٹی باڈی تیار کیی ہے جو نئے اعضاء کو مسترد کرنے سے روک سکتی ہے۔
واضح رہے کہ AT-1501 جسے اب ٹیگوپروبارٹ اینٹی باڈی کا نام دیا گیا ہے یہ ایک مونو کلون اینٹی باڈی ہےجیسے AT-1501 کو انسانی اینٹی باڈیز کی طرح کام کرنے کے لیے ایک قسم کے مدافعتی خلیے کی کلوننگ کے ذریعے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ AT-1501 کچھ T خلیات کی سطح پر CD40 ligand نامی ایک مخصوص پروٹین کو نشانہ بناتا ہے، ایک قسم کے سفید خون کے خلیے جو مدافعتی ردعمل میں شامل ہیں۔
اس طرح یہ T خلیات کو فعال کرنے کے خلاف اینٹی باڈی کی طرح کام کرتا ہے۔ اس طرح سے ٹی سیل ایکٹیویشن کو کم کرنا متعدد مدافعتی ردعمل کو روکنے میں مدد کرتا ہے جو ٹرانسپلانٹ شدہ عضو کو مسترد کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس نئی اینٹی باڈی کو بندروں میں گردے کی پیوندکاری کے دوران استعمال کیا گیا جس نے ٹرانسپلانٹ شدہ گردوں کو مسترد ہونے سے کامیابی کے ساتھ روک دیا ، جس سے انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے لیے ایک نئی کرن سامنے آئی ہے۔
اگر انسانی کلینیکل ٹرائلز میں یہ نئی اینٹی باڈی کامیابی کے ساتھ پیوندکاری کی صورت میں اعضاء کو مسترد کرنے سے روکنے میں مؤثر ثابت ہوتی ہیں تو یہ علاج مستقبل میں اعضاء کی پیوند کاری کے نقطہ نظر کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔
ڈیوک یونیورسٹی سے امیونولوجسٹ اور ٹرانسپلانٹ سرجن ایلن کرک کا اس اہم کامیابی کے بارے میں کہنا ہے کہ اعضاء کی پیوند کاری کی ضرورت والے لوگوں کے لیے یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
اس نئی مونوکلونل اینٹی باڈی نے مدافعتی ادویات کی ضرورت میں اضافہ کیے بغیر اور خون کے لوتھڑے بننے کے عمل کے بغیر اعضاء کومسترد ہونے کی شرح کو کم کیا۔
ڈیوک یونیورسٹی کے سرجن سائنسدان عمران انور کا کہنا ہے کہ اعضاء کو مسترد کرنے سے روکنے کے لیے موجودہ ادویات مجموعی طور پر اچھی ہیں، لیکن ان کے بہت سے مضر اثرات ہیں۔
یہ علاج مدافعتی نظام کے اثر کو کم کرتے ہیں، مریضوں کو انفیکشن اور اعضاء کو نقصان پہنچنے کے خطرے کو بڑھاتے ہیں، اور بہت سے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی غیر مدافعتی پیچیدگیوں کا سبب بنتے ہیں۔
یہ دریافت نئے مونوکلونل اینٹی باڈی کے لیے انسانی کلینیکل ٹرائلز میں مزید آگے بڑھنے کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے۔ مطالعہ کے نتائج 30 اگست کو سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن جریدے میں آن لائن شائع کیے گئے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















