Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایسا “سینسر” جو بیٹریوں کی جھنجھٹ سے چھٹکارہ دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے

ماہرین نے ایک ایسا سینسر ایجاد کیا ہے جو بیٹریوں کی جھنجھٹ سے چھٹکارہ دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

قوتِ سماعت سے محروم افراد کی مدد کے لیے گیجٹس جیسی اہم ٹیکنالوجی جیسے متعدد اہم معاملات میں اس وقت سینسر بڑے پیمانے پر استعمال کیے جارہے ہیں۔

لیکن ان سینسرز میں مسلسل توانائی کی فراہمی کی ضرورت کی وجہ سے یہ بیٹریوں پر انحصار کرتے ہیں جن کوباقاعدگی سے بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق 2025 تک روزانہ 7.8 کروڑ بیٹریاں روزانہ کچرے دان میں پھینکی جائیں گی کیونکہ یہ بیٹریاں ایسے مواد سے بنی ہوتی ہیں جن کو جمع کرنا اور اس سے چھٹکارہ پانا مشکل ہو سکتا ہے۔

حال ہی میں سائنسدانوں نے ایک ایسا سینسر بنایا ہے جو بیٹریوں کی جھنجھٹ سے چھٹکارہ دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسا مکینکی سینسر بنایا ہے جس کو چلنے کے لیے توانائی کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ بیٹری کے کچرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سینسر آواز کی لہروں میں موجود مرتعش توانائی کو استعمال کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سینسر مخصوص آواز (کوئی مخصوص لفظ کی ادائیگی یا مخصوص آواز کے پیدا ہونے) پر عمل کرنے کے قابل ہے جبکہ آواز کی لہروں کا مخصوص سیٹ ہی سینسر میں ارتعاش کا سبب ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ سینسر فعال ہوچکا ہے۔