Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اے آئی کا غلط استعمال اربوں انسانوں کے لیے خطرہ، بل گیٹس کا انتباہ

بل گیٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت اگر غلط ہاتھوں میں چلی جائے تو اس کے اثرات بڑے پیمانے پر سامنے آسکتے ہیں

واشنگٹن: مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس
کے ممکنہ منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتوں پر مؤثر نگرانی اور ضابطہ سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

بل گیٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت اگر غلط ہاتھوں میں چلی جائے تو اس کے اثرات بڑے پیمانے پر سامنے آسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کو سائبر حملوں، فراڈ، ڈیپ فیکس، غلط معلومات اور غیر قانونی نگرانی جیسے مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اے آئی کسی سافٹ ویئر میں موجود کمزوری کی نشاندہی اور اسے دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہی صلاحیت کسی حملہ آور کو سسٹم کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے قابل بھی بنا سکتی ہے۔

بل گیٹس نے بائیو ٹیررازم کے ممکنہ خطرے کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ مصنوعی ذہانت نئی ادویات اور ویکسین کی تیاری میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، تاہم اس کا غلط استعمال خطرناک بیماریوں کی تیاری یا پھیلاؤ کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

انہوں نے خودکار ہتھیاروں اور عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کے لیے اے آئی کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

بل گیٹس کا کہنا ہے کہ موجودہ ادارے ایسی ٹیکنالوجی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں جو روزگار، تعلیم، صحت، قومی سلامتی، مالیاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے سمیت معاشرے کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرسکتی ہے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی سطح کے اقدامات کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان کے مطابق حکومتوں، ٹیکنالوجی ماہرین، کاروباری اداروں، معاشی ماہرین اور کارکنوں کو مل کر ایک ایسا فریم ورک تشکیل دینا چاہیے جو اے آئی کے فوائد کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے ممکنہ نقصانات کو کم کرسکے۔

بل گیٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر بروقت اقدامات ضروری ہیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کو انسانوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جاسکے اور مستقبل میں اس کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے بڑے خطرات کو محدود کیا جا سکے۔