ہر گزرتے وقت کی ساتھ ٹیٹو کی نہ صرف مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ اس میں جدت بھی آتی جارہی ہے ایک وقت تھا جب اسے ایک مخصوص طبقہ بنواتا تھا تاہم اب ہر شعبہ ہائے زندگی اور سنجیدہ طبیعت رکھنے والے جیسے اساتذہ، وکلا اور بڑے بڑے سرجن بھی اپنے جسم پر ٹیٹو بنوا رہے ہیں تاہم ہر شخص یہ نہیں چاہتا کہ اس کے جسم پر بنا ٹیٹو ہر وقت نظر آتا رہے۔
اس سوچ کو مد نظر رکھتے ہوئے سائنسدانوں نےاب ایک ایسی نئی سیاہی تیار کی ہے جس سے بنائے گئے ٹیٹو عام روشنی میں دکھائی نہیں دیتےتاہم مخصوص قسم کی روشنی پڑنے پر شوخ رنگوں میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کا نام فوٹو ٹاٹ ہے جس کی مدد سے مستقبل میں ٹیٹو کو چھپانااور بعد میں اسے دوبارہ نمایاں کرنا آسان ہوگا ممکن ہے کہ آگے چل کر جلد پر بنے ڈیزائن تبدیل کرنا بھی ممکن ہو جائے۔
کولوراڈو بولڈر یونیورسٹی کے کیمیا دان کارسن برنز کی سربراہی میں محققین کی ایک ٹیم نے روشنی سے متاثر ہونے والے تین خاص رنگ تیار کیے۔
یہ بھی پڑھیں: جلد پر ٹیٹو کی مقبولیت کم، اب کونسا ٹیٹو ٹرینڈ بن گیا
ان رنگوں کو پولی میتھائل میتھاکریلیٹ کے انتہائی چھوٹے ذرات میں بند کیا گیا ہے جو کہ ایک شفاف پلاسٹک ہے جسے عام طور پر پلیکسگلاس بھی کہا جاتا ہے۔

یہ سیاہی دو مختلف صورتوں میں کام کرتی ہے۔ عام روشنی میں ٹیٹو تقریباً نظر نہیں آتا، اس لیے جلد بظاہر عام دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ الٹرا وائلٹ روشنی میں جب اس پر 365 نینو میٹر طولِ موج والی الٹرا وائلٹ روشنی ڈالی جاتی ہے تو سیاہی تیزی سے فعال ہو جاتی ہے اور نیلے، گلابی مائل جامنی اور پیلے رنگوں میں چمکنے لگتی ہے۔
ان تین بنیادی رنگوں کو مختلف تناسب سے ملا کر کئی دوسرے رنگ اور ڈیزائن بھی بنائے جا سکتے ہیں جب یو وی روشنی ہٹا دی جاتی ہے تو یہ رنگ کئی گھنٹوں کے دوران آہستہ آہستہ مدھم پڑ جاتے ہیں۔ تیز مرئی روشنی ان رنگوں کو زیادہ جلدی غائب بھی کر سکتی ہے۔
یعنی ایک ہی جلد پر بنا ٹیٹو مختلف اوقات میں مختلف شکلوں میں نظر آ سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ ٹیٹو کے بنیادی تصور کو بدل سکتی ہے روایتی ٹیٹو بنواتے وقت آپ ایسا ڈیزائن منتخب کرتے ہیں جسے زندگی بھر اپنے جسم پر رکھنے کے لیے تیار ہوں تاہم فوٹو ٹاٹ جیسی ٹیکنالوجی کے عام ہونے کی صورت میں آپ یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ آج آپ اپنی جلد پر کیا دکھانا چاہتے ہیں اور کس وقت اسے چھپانا چاہتے ہیں۔
فی الحال یہ ٹیکنالوجی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ اسے محفوظ، قابلِ اعتماد اور عام استعمال کے لیے موزوں بنانے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔




















