Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وہی ہوا جس کا ڈر تھا؛ سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سیارہ زمین کی تندرستی کے اہم اشاریئے تیزی سے رو بہ زوال ہیں اور اس ضمن میں فوری طور پر آب و ہوا کی ہنگامی حالت یا کلائمیٹ ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم کرۂ ارض کے فطری نظاموں سے وابستہ تمام معیارات (وائٹل سائنز) روبہ زوال ہیں اور کچھ اپنی تباہی کی حد پر پہنچ چکے ہیں، ان میں انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ کی برفیلی چادروں کا غیرمعمولی پگھلاؤ، مرجانی چٹانوں کی تباہی، ایمیزون اور آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ بھی شامل ہے۔

سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سے قبل 2019 میں بایوسائنس نامی جرنل میں 11 ہزار سے زائد سائنسدانوں نے سیارہ زمین پر کلائمیٹ ایمرجنسی کی درخواست کی تھی، لیکن اس رپورٹ میں مزید کچھ اضافے کے بعد اسے اب دوبارہ شائع کیا گیا تھا اور 14 ہزار سائنسدانوں نے اس کی تصدیق و تائید کی۔

اس حوالے سے جامعہ سڈنی کے ماحولیات داں تھامس نیوسم نے بتایا تھا کہ دو برس سے وہ  آگ لگنے کے ہولناک واقعات دیکھ رہے ہیں جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ جیسی گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔

اس دوڑ میں مزید 2800 سائنسداں شامل ہوچکے ہیں اور اب دنیا کے 34 ممالک میں 1990 قوانین منظور ہوئے ہیں جو کلائمیٹ ایمرجنسی سے متعلق ہیں، لیکن خوش قسمتی سے کئی ممالک تین نقاط پر متفق ہوچکے ہیں یا ان کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

اوّل کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر بھاری ٹیکس، رکازی ایندھن (تیل، گیس اور کوئلے) پر مرحلہ وار پابندی اور حیاتیاتی تنوع کے مقامات (مثلاً ایمیزون) کا تحفظ شامل ہیں، لیکن افسوس کہ ماہرین 1960 ء سے اس کا تقاضا کرتے آرہے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے ہماری زمین غیرمعمولی تباہی سے دوچار ہے اور اب ہمارے پاس وقت بالکل ختم ہوچکا ہے، انسان تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے اس سیارے کے وسائل اور قدرتی نظام کو تباہ کررہا ہے۔

ماہرین نے کل 31 وائٹل سائنز یعنی اہم فطری اشاریوں کو اپنی تحقیق میں شامل کیا ہے جن میں سمندروں کی صحت، برف کے پگھلتے ہوئے ذخائر، غلے اور مویشیوں کی تعداد جیسے عوامل شامل ہیں جو دباؤ کے شکار ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ اچھی خبریں بھی ہیں جن میں 2018 سے اب تک ہوا سے بجلی بنانے کے نئے منصوبے شامل ہیں جو اب بڑھ کر57 فیصد تک جاپہنچے ہیں جبکہ اسی عرصے میں رکازی (فاسل) فیول کی سرمایہ کاری میں اسی طرح کمی ہوئی ہے۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں