Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈیری مصنوعات سے ایندھن بنانے کا کامیاب تجربہ

ماہرین نے دودھ سے پنیر بنانے کے عمل کے دوران بننے والے نمکین پانی سے ایندھن بنانے کے کامیاب تجربہ کیا ہے

سائنسدان ایک طویل عرصے سے مختلف چیزوں سے ایندھن بنانے کی کشش کرتے آئیں ہیں جس میں انہیں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی تاہم اب اس فہرست میں بلکل ہی عجیب شامل ہوئی اور وہ ہے ڈیری مصنوعات۔

جی ہاں! اب ماہرین نے دودھ سے پنیر بنانے کے عمل کے دوران بننے والے نمکین پانی سے ایندھن بنانے کے کامیاب تجربہ کیا ہے۔

 اس پانی کو سالٹی وہے کہا جاتا ہے یہ عموماً چیڈر اور اسی طرح کی دوسری پنیر بنانے کے عمل کے دوران پیدا ہوتا ہے۔

  خیال رہے کہ عام وہے کو مختلف چیزوں، مثلاً پروٹین پاؤڈر اور غذائی مصنوعات، میں استعمال کیا جاتا ہے تاہم دودھ سے چیڈر جیسی پنیر بناتے وقت اس میں نمک ڈالا جاتا ہے۔ اس وجہ سے جو وہے بچتا ہے وہ بہت زیادہ نمکین ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسی  سالٹی وہے کہا جاتا ہے۔

اس نمکین وہے کو دوبارہ استعمال کرنا مشکل ہے اس کی وجہ ہے کہ اگر اسے دریاؤں یا دوسرے پانی کے ذخائر میں پھینکا جائے تو پانی کی آکسیجن کم ہوسکتی ہے جس سے آبی جانداروں کو نقصان پہنچ کا خدشہ ہے جبکہ زمین پر ڈالنے سے بھی مٹی اور فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: استعمال شدہ کافی سے ایندھن بنانے کا نیا طریقہ دریافت

خیال رہے کہ برطانیہ میں ہر سال تقریباً 95 ہزار ٹن نمکین وہے پیدا ہوتا ہے۔ اسے ٹھکانے لگانے میں ڈیری کمپنیوں کو کافی خرچ کرنا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کی کمپنی ٹیک روٹ باؤاورہیریٹ واٹ یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا طریقہ آزمایا جس میں نمکین وہے میں موجود شکر کو استعمال کرکے بایوایتھانول بنایا جاتا ہے۔

بایوایتھانول ایک قسم کا ایندھن ہے جو پودوں یا دیگر حیاتیاتی مادوں سے حاصل کیا جاتا ہے، نہ کہ پٹرول یا دوسرے فوسل ایندھن سے اس طریقے سے ایک ایسی چیز جو پہلے بے کار سمجھی جاتی تھی ممکنہ طور پر مفید ایندھن میں تبدیل ہوگئی۔

محققین نے ابھی یہ تفصیلات ظاہر نہیں کیں کہ ایندھن بنانے کے دوران کون سا مائیکرو آرگنزم استعمال کیا گیا۔ایک لیٹر وہے سے کتنی مقدار میں ایتھانول بنتا ہے اس عمل کے دوران نمک کو پہلے نکالا جاتا ہے یا نہیں اور بڑے پیمانے پر یہ طریقہ کتنا سستا یا مہنگا ہوگا۔

اگر یہ طریقہ بڑے پیمانے پر کامیاب اور سستا ثابت ہوتا ہے تو ڈیری فارمز اپنے اس فضلے کو صرف تلف کرنے کے بجائے اس سے ایندھن بنا سکیں گے۔

کمپنی ایسے چھوٹے موبائل پلانٹس بنانے پر بھی غور کر رہی ہے جو ڈیری فارمز کے قریب لگائے جاسکیں۔ اس طرح ہزاروں لیٹر نمکین وہے کو دور لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

محققین مستقبل میں پھلوں، سبزیوں اور دیگر زرعی فضلے سے بھی اسی طرح مفید چیزیں بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ خمیر کاری کے دوران پیدا ہونے والی میتھین اور ہائیڈروجن جیسی گیسوں کو بھی دوبارہ استعمال کرنے کا امکان دیکھا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں