پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سابق اولمپئین و مینجر قومی ٹیم خواجہ جنید پر تاحیات پابندی لگا دی۔
تفصیلات کے مطابق خواجہ جنید ایشیاء کپ کے دوران پاکستان ہاکی ٹیم کے مینجر تھے، ایشیاء کپ میں جاپان کے خلاف میچ میں 12 کھلاڑیوں کو فیلڈ میں اتارنے کا واقع پیش آیا تھا جس کے سبب پاکستان گول ڈسکوالیفائی ہونے کی وجہ سے ورلڈکپ میں کوالیفائی نہ کرسکا۔
سابق سیکریٹری پی ایچ ایف آصف باجوہ نے معاملہ کی انکوائری کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی اور خواجہ جنید نے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے قبل استعفیٰ پیش کردیا تھا۔
بعد ازاں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری حیدر حسین نے دوبارہ کمیٹی کی رپورٹ طلب کی اور کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اولمپئن خواجہ جنید پر تاحیات پابندی لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان میں ہاکی کے بعد اسکواش بھی زوال کا شکار
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے لیگل ایڈوائزر میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ خواجہ جنید کی وجہ سے ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور مس کنڈکٹ کی وجہ سے پاکستان ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکا۔
انہوں نے بتایا کہ ایف آئی ایچ کے قوانین کے مطابق کارروائی کی گئی ہے، کمیٹی نے خواجہ جنید کو بلایا گیا لیکن وہ نہیں آئے ، خواجہ جنید کا مس کنڈکٹ ناقابل معافی ہے کیوں کہ اس سے ناقابل تلافی نقصان ہوا۔
میاں علی اشفاق نے کہا کہ خواجہ جنید تاحیات پابندی لگا دی گئی ہے، خواجہ جنید ہاکی کی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے ، صدر پی ایچ ایف نے بھی اس کی منظوری دے دی ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری حیدر علی کا کہنا تھا کہ جاپان کے خلاف میچ میں بارہ کھلاڑیوں کو کھلانے کا معاملہ سنجیدہ تھا جس پر آصف باجوہ نے کمیٹی تشکیل دی تھی، کمیٹی میں خواجہ جنید پیش نہ ہوئے انہوں نے وٹس ایپ کے ذریعے بتایا وہ زمہ دار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی ایچ کے قوانین کے مطابق تمام معاملات کا زمہ دارمینجر ہوتا ہے ، پی ایچ ایف صدر نے پابندی کی منظوری دے دی ہے۔
دوسری جانب خواجہ جنید نے اپنے دفاع میں کہا کہ یہ ایشو ہے نہیں، جب معاملہ ختم ہو چکا تو اب پتہ نہیں کیا ضرورت پڑ گئی، میں کسی کے ساتھ اختلافات یا لڑائی جھگڑا نہیں چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ سابق سیکریٹری آصف باجوہ پریس کانفرنس میں کہہ چکے کہ معاملہ ختم ہے، ہیڈ کوچ ایکمین کے زمہ داری قبول کر نے کے بعد معاملہ ختم ہو گیا تھا، میری زمہ داری ہی نہیں بنتی تھی اب فیڈریشن کی مرضی جو بھی فیصلہ کرے۔


















