پی ایس ایل 9 میں اپنے پہلے ہی میچ میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرنے والے مسٹری اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر سوالات اٹھنے لگے۔
پاکستان سپر لیگ کے نویں ایڈیشن (پی ایس ایل 9) میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنے والے مسٹری اسپنر عثمان طارق کو اپنے پہلے میچ میں ہی شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرنے پر جہاں سابق کھلاڑیوں کی جانب سے سراہا جارہا ہے وہیں ، انہیں شائقین کرکٹ کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
مختلف اسپورٹس پروگرام میں شامل سابق کرکٹرز کی جانب سے تجزیہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عثمان طارق کو آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے پہلے قومی ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے کیوں کہ وہ پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ عثمان طارق نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے اپنے پہلے ہی میچ میں 4 اوورز میں صرف 16 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر مداحوں نے سوال اٹھایا کہ بولنگ کرنے سے پہلے وہ تھوڑا رک جاتے ہیں کیا ان کا یہ ایکشن قانونی قرار دیا جاسکتا ہے؟
اس حوالے سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ڈائریکٹر محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ عثمان طارق کا بالنگ ایکشن آئی سی سی کے قانون 42.2 کے مطابق قانونی ہے۔
آئی سی سی قانون کے مطابق بولر گیند کروانے سے قبل رُک سکتا ہے اگر وہ اس کے بالنگ ایکشن کا حصہ ہو تو لیکن اگر امپائر کو لگے کہ وہ بیٹر کو دھوکا دینے کیلئے یہ کررہا ہے تو وہ اس گیند کو ڈیڈ بال قرار دیتا ہے۔
حفیظ کا مزید کہنا تھا کہ اسپنر اپنا ہاتھ 15 ڈگری تک بینڈ کرسکتا ہے لیکن عثمان ہاتھ محض 12 ڈگری تک جاتا ہے۔


















