Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چیمپئینز ٹرافی: کیا پاکستان ٹیم ٹائٹل کا دفاع کرسکے گی؟

کرکٹ کی دنیا میں چیمپئینز ٹرافی کو وہی حیثیت حاصل ہے جو ورلڈکپ کے مقابلوں کو ہے، دسویں چیمپئینز ٹرافی میں 19 فروری سے دنیائے کرکٹ کی 8 بہترین ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہونگی۔

اگرچہ اس کے انعقاد میں آنے والی رکاوٹیں اب حتمی طور ہر ختم ہوچکی ہیں، جو بے یقینی کی کیفیت ایک ماہ قبل تھی اب معدوم پڑگئی ہے اور شائقین کرکٹ کو یقین ہوگیا ہے کہ ان سنسنی خیز مقابلوں کے لیے کسی مزید رکاوٹ کا امکان نہیں ہے۔

انڈیا کے پاکستان نہ جانے کے فیصلے کو کسی بھی طرح دانشمندانہ فیصلہ نہیں کہا جاسکتا لیکن میزبان ملک پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ کے روابط کے انقطاع نے انڈیا کو ایک موقف فراہم کیا کہ ہم جب پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی کرکٹ نہیں کھیلتے تو اب کیوں جائیں۔

 پاکستان کرکٹ بورڈ نے کسی ضد آمیز رویہ کے بجائے ایک مصالحانہ رویہ اختیار کیا اور ہائیبرڈ ماڈل کو تسلیم کرلیا، یہ اگرچہ اصولی موقف نہیں ہے لیکن وقت کے ساتھ اس میں مزید لچک آنے کی توقع ہے، پاکستان بھی اب انڈیامیں کوئی میچ نہیں کھیلے گا لیکن کیا آئی سی سی اس پر عمدرآمد کراسکے گا؟

پاکستانی ٹیم کہاں کھڑی ہے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ نے جس ٹیم کے ساتھ چیمپئینز ٹرافی کھیلنے کا اعلان کیا ہے وہ کافی عجیب ہے، پاکستان ٹیم نے حال ہی میں دو ایسے ریکارڈ قائم کیے ہیں جس نے نئی تاریخ رقم کردی ہے، آسٹریلیا کو اس کے  ہی ملک میں سیریز ہرانا اور ساؤتھ افریقہ کو کلین سوئپ کرنے سے پاکستان ٹیم یقینی طور پر ایک مضبوط اورمستند ٹیم بن کر ابھری ہے لیکن مبصرین کے خیال میں آسٹریلیا کی بی ٹیم کھیل رہی تھی اور اسی طرح ساؤتھ افریقہ کے بھی کچھ اچھے کھلاڑی دستیاب نہیں تھے۔

اس کے ساتھ ٹیسٹ سیریز میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف دونوں ٹیسٹ میں شکست اور ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی ہی سرزمیں پر شکست نے ٹیم کی مستقل مزاجی پر سوال اٹھادیا ہے۔

پاکستان نے چیمپئینز ٹرافی کے لیے جو ٹیم منتخب کی ہے اس میں چند کھلاڑیوں کی شمولیت پر بہت تنقید ہورہی ہے۔  ٹیم میں زیادہ تر وہی کھلاڑی ہیں جو ساؤتھ افریقہ کے خلاف سیریز کھیلے تھے لیکن فہیم اشرف اور خوشدل شاہ کی شمولیت پر سب حیران ہیں۔

فہیم اشرف جنہوں نے آخری بار پاکستان کی طرف سے 2023 ستمبر میں ایشیا کپ میں انڈیاکے خلاف میچ کھیلا تھا جس میں ان کی بولنگ کے ویراٹ کوہلی اور کے ایل راہول نے پرخچے اڑادیے تھے جبکہ بیٹنگ میں وہ 4 رنز کا کارنامہ انجام دے سکے تھے، اس کے بعد انھیں ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا وہ ڈومیسٹک میں بھی کچھ نہیں کرسکے۔

 پریزیڈنٹ کپ میں انھوں نے 264 رنز بنائے لیکن بولنگ میں صرف 6 وکٹ لے سکے جبکہ ان کی بولنگ کی رفتار بھی اب کم ہوچکی ہے، ایک روزہ کرکٹ میں ان کی کارکردگی بہت خراب ہے، 34 میچوں میں 10 رنز کی اوسط سے 224 رنز اور محض 26 وکٹیں ان کی بدترین کارکردگی کی آئینہ دار ہیں۔

اسی طرح خوشدل شاہ دس میچوں میں محض 199 رنز بناسکے ہیں پاکستان کی طرف سے انھوں نے 2022 میں آخری دفعہ نیدرلینڈز کے خلاف میچ کھیلا تھا اور جب سے ٹیم سے باہر ہیں اس دوران انھوں نے ملکی کرکٹ میں کوئ ایسی کارکردگی نہیں دکھائی جو ان کے انتخاب کی وجہ بن سکے لیکن سیلیکٹرز کے پاس جواب نہیں ہے۔

سیلیکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ہارڈ ہٹر ہیں ان کے متعلق یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن وہ ہمیشہ ناکام رہے ہیں۔

پاکستان کی امید فخر زمان

پاکستان ٹیم میں صرف ایک مستند اوپنر فخر زمان ہیں جو 6 ماہ کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں اگرچہ ان کی فارم بھی خاص نہیں ہے لیکن دوسرے اوپنرز کی مسلسل ناکام ہونے سے انھیں واپسی کا موقع مل گیا۔

لیکن ان کے ساتھ اوپننگ کون کرے گا یہ ابھی کسی کو معلوم نہیں، ایک سیلکٹر اسد شفیق نے بلا سوچے سمجھے سعود شکیل کو اوپنر بنانے کا عندیہ دیا تو میڈیا نے بابر اعظم کو اوپنر بنادیا لیکن ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کے باوجود امام الحق کو منتخب نہیں کیا گیا اور نہ ہی شان مسعود کو جو آس لگائے ہوئے تھے، اتنے اہم ایونٹ میں صرف ایک مستند اوپنر ہے اس کا مطلب ہے آپ کو پورے سسٹم میں کوئی دوسرا اوپنر ہی نہیں ملا۔

 اس طرح فخر زمان پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا ٹیم مینیجمنٹ سہ فریق سیریز میں کوئی میک شفٹ اوپنر کو آزمائے گی اور اگر وہ کامیاب ہوگیا تو شاید مسئلہ حل ہوجائے لیکن فی الحال اوپننگ ایک گھمبیر مسئلہ بنا ہوا ہے۔

عامر جمال

سب سے زیادہ زیادتی عامر جمال کے ساتھ ہوئی جن کی کارکردگی ایک سال سے بہت نمایاں ہے، بولنگ میں ان کی رفتار 140 تک ہے اور بیٹنگ میں وہ جارحانہ اندازسے کھیل سکتے ہیں لیکن نامعلوم وجوہات پر انھیں آخری لمحوں میں کسی دباؤ کے نتیجے میں ڈراپ کردیا گیا، شاید حکام بالا کا فہیم اشرف کے لیے بہت دباؤ تھا۔

اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ٹیم محمد رضوان اور بابر اعظم پر بہت زیادہ بھروسہ کررہی ہے، بابر کی فارم اتنی اچھی نہیں ہے لیکن بابر تکنیکی طور پر سب سے اچھے بلے بازہیں، پاکستان کو مڈل آرڈر کا مسئلہ ابھی بھی درپیش رہے گا اگر کامران غلام سلمان علی آغا اچھا کھیل گئے تو شاید بات بن جائے۔

پاکستان کی بیٹنگ بنیادی طور پر فخر زمان، بابر اعظم، کامران غلام محمد رضوان سلمان علی آغا اور سعود شکیل پر مشتمل ہوگی جبکہ فہیم اشرف کا کرداد فنشر کا ہوگا۔ شاہین شاہ آفریدی نسیم شاہ اور حارث رؤف فاسٹ بولر ہونگے جبکہ ابرار احمد واحد اسپنر ہونگے، شاید یہاں پاکستان کو ایک اور اسپنر درکار تھا، سست پچوں پر اسپنرز کا کردار بہت اہم ہوگا۔

اگر گزشتہ چیمپئینز ٹرافی سے موازنہ کریں تو اس ٹیم میں محمد حفیظ جیسا آل راؤنڈر اور شاداب خان جیسا ماہر رسٹ اسپنر موجود تھا، ان دونوں نے پاکستان کو قیمتی وکٹین دلائی تھی جبکہ بیٹنگ میں فخر زمان اور بابر بہت اچھی فارم میں تھے۔ سب سے بڑھ کر ٹائیگر کپتان سرفراز تھا جس کی کرکٹ کی جانکاری بہت تھی۔

پاکستان کا پہلا میچ کہاں ہوگا؟

پاکستان کا پہلا میچ نیوزی لینڈ کے ساتھ کراچی میں ہوگا، جو شاید مشکل نہ ہو اور بنگلہ دیش کے ساتھ راولپنڈی میں بھی آسان ہو لیکن دبئ میں انڈیا کے ساتھ بہت اہم ہوگا اگر روایتی طور پر میچ ہوا تو نتیجہ انڈیا کے حق میں ہوسکتا ہے، اس لیے پاکستان کا سب سے اہم میچ نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوگا اور اگر یہ میچ پاکستان نہ جیت سکا تو بات سیمی فائنل سے پہلے ہی ختم ہوجائے گی۔

پاکستان کو کیویز کو قابو کرنے کے لیے اسپن کا جال بچھانا ہوگا، لیکن دنیا کا سب سے بہترین اسپنر مچل سارٹنر مخالف کپتان ہوگا اگر اس کا داؤ چل گیا تو جال اپنے لیے ہی عزاب بن جائے گا۔  پاکستان کو اس میچ میں بہت محنت اور ذہانت دکھانا ہوگی کیونکہ نیوزی لینڈ اس چیمپئینز ٹرافی کے فیوریٹ میں شامل ہے اور رکی پونٹنگ سنیل گواسکر اور رمیز راجہ اسے سمی فائنل میں دیکھ رہے ہیں، اگرچہ پاکستان بھی فیوریٹ میں شامل ہے لیکن اپنی غیر مستقل مزاجی کے باعث یہ کبھی امریکہ سے ہار جاتی ہے اور کبھی آسٹریلیا کو ہرا دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں