ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کے بعد ارشد ندیم کا بیان سامنے آگیا ہے۔
پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ جیولن تھرو ایتھلیٹ ارشد ندیم نے ایک بار پھر قوم کا سر فخر سے بلند کردیا جب انہوں نے جنوبی کوریا میں ہونے والی ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 2025ء کے جیولن تھرو مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔
یہ کارنامہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے کیونکہ ارشد ندیم 52 سال بعد ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ جیتنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیں۔
مقابلے کے دوران ارشد ندیم نے اپنی پہلی تھرو میں 75.64 میٹر، دوسری میں 76.80 میٹر اور تیسری کوشش میں 85.57 میٹر کی تھرو کی۔
چوتھے راؤنڈ میں انہوں نے 83.99 میٹر کی تھرو کی اور سبقت برقرار رکھی۔ آخر میں ارشد ندیم نے اپنی بہترین تھرو 86.40 میٹر کے ساتھ میدان مار لیا اور گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کردی۔
ارشد ندیم نے اپنی کامیابی کو قوم کے نام کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لمحے پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جس نے پاکستان کو عزت دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ آئندہ مقابلوں کے لیے بھرپور تیاری کریں گے تاکہ ملک کا وقار مزید بلند ہو۔
واضح رہے کہ ارشد ندیم اس سے قبل پیرس اولمپکس میں بھی سونے کا تمغہ حاصل کرچکے ہیں جب کہ 1973 کے بعد پہلی بار پاکستان نے ااولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔


















