Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دوسری جنگِ عظیم کے برفانی جنگی جہاز کے منصوبے سے مضبوط تعمیراتی مواد تیار

یہ مواد خاص طور پر آرکٹک اور انٹارکٹک جیسے انتہائی سرد علاقوں میں تعمیرات کے لیے مستقبل میں کارآمد ثابت ہو سکتا ہے

دوسری جنگِ عظیم کے دوران برف سے جنگی جہاز بنانے کا ایک عجیب منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ اب اسی خیال سے متاثر ہو کر سائنس دانوں نے ایک ایسا نیا مواد تیار کیا ہے جسے ’’سپر آئس‘‘ کہا جا رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کی مضبوطی  عام برف کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔

اس نئے مواد کو اسرائیل کی ہیبریو یونیورسٹی کے محققین نے تیار کیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسے قطبی علاقوں یا حتیٰ کہ دوسرے سیاروں پر تعمیرات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

برف سے جنگی جہاز بنانے کا منصوبہ

اس خیال کی بنیاد دوسری جنگِ عظیم کے ایک منصوبے ’’پروجیکٹ ہاباکک‘‘ میں ملتی ہے۔ اس وقت اسٹیل اور ایلومینیم کی کمی تھی، اس لیے برطانوی موجد جیفری پائیک نے تجویز دی کہ برف سے بہت بڑے جنگی اور طیارہ بردار جہاز بنائے جائیں۔

قدرتی برف کے تودے اس مقصد کے لیے کافی بڑے اور مضبوط نہیں تھے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے برف میں لکڑی کا برادہ ملانے کا خیال پیش کیا گیا۔ اس طرح ایک نیا مواد تیار ہوا جسے پیکریٹ  کا نام دیا گیا۔

پیکریٹ نسبتاً سستا تھا اور اسے مختلف شکلوں میں ڈھالا بھی جا سکتا تھا، لیکن اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں بہت سے مسائل سامنے آئے اور بالآخر اسے ترک کر دیا گیا۔

ہیبریو یونیورسٹی کے محققین کے مطابق پیکریٹ کی مضبوطی اس لیے محدود تھی کیونکہ لکڑی کے ریشے برف میں بے ترتیب انداز میں پھیلے ہوتے تھے۔

محققین نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے لکڑی کے ریشوں کو انتہائی چھوٹے ذرات میں تبدیل کیا اور انہیں ایک تین جہتی ڈھانچے کی شکل دی۔

اس کے بعد انہوں نے مچھلی میں پائے جانے والے ایک قدرتی پروٹین میں جینیاتی تبدیلی کی۔ یہ پروٹین برف سے چپکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں ایسا حصہ شامل کیا گیا جو کاربوہائیڈریٹس سے بھی جڑ سکتا ہے۔

جب اس تبدیل شدہ پروٹین کو سیلولوز کے انتہائی چھوٹے ذرات کے ساتھ ملا کر منجمد کیا گیا تو ایک ایسا مضبوط اور لچک دار ڈھانچہ بنا جس نے برف کی طاقت میں نمایاں اضافہ کر دیا محققین کے مطابق اس مواد کو ’’بایو پیکریٹ ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

عام برف سے 70 گنا زیادہ توانائی برداشت کرنے کی صلاحیت

تجربات میں بایو پیکریٹ سے بنائے گئے سلنڈروں نے عام برف کے مقابلے میں تقریباً 70 گنا زیادہ توانائی برداشت کی اور ٹوٹنے سے پہلے زیادہ دباؤ برداشت کیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ مواد خاص طور پر آرکٹک اور انٹارکٹک جیسے انتہائی سرد علاقوں میں تعمیرات کے لیے مستقبل میں کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں انسان مریخ کے قطبی علاقوں یا مشتری کے کسی برفیلے چاند پر تعمیرات کرنا چاہے تو اس طرح کے مواد کا استعمال ممکن ہو سکتا ہے۔

ابھی عملی استعمال میں رکاوٹیں موجود ہیں

تاہم سائنس دانوں کے مطابق اس مواد کو بڑے پیمانے پر تیار کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیبارٹری میں چند نمونے بنانا آسان ہے، لیکن کسی عمارت کے لیے بڑی مقدار میں مخصوص پروٹین تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر بیکٹیریا کی افزائش اور پیداوار کا نظام درکار ہوگا۔

یعنی دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں جیفری پائیک کے خیال کی طرح، ایک دلچسپ سائنسی تصور کو عملی اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے تعمیراتی مواد میں تبدیل کرنے کے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔