Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خلائی مدار میں تصادم کا خطرہ بڑھنے لگا، یورپی ادارے نے خبردار کردیا

مصنوعی سیاروں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث بعض مدار کے علاقوں میں صورتحال تشویشناک ہورہی ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی کی نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ زمین کے گرد خلائی مدار میں مصنوعی سیاروں اور ملبے کی بڑھتی تعداد مستقبل میں تصادم کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مصنوعی سیاروں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث بعض مدار کے علاقوں میں صورتحال تشویشناک ہورہی ہے اور طویل مدت میں خلائی ملبے کے بڑھتے سلسلے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی کی سالانہ خلائی ماحول سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مستقبل میں مصنوعی سیاروں کی متوقع تعداد کے اندازوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر مصنوعی سیاروں کے گروہوں کی موجودگی مستقبل کے خلائی سفر کے لیے روایتی حفاظتی اقدامات کو ناکافی بنا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی سیاروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ان کے باہمی تصادم کا امکان بھی بڑھتا ہے تاہم فوری طور پر ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ ایک ہی تصادم سے خلاء میں تباہ کن سلسلہ شروع ہوجائے۔

رپورٹ میں مختلف ممکنہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر مصنوعی سیاروں کی روانگی میں اضافہ جاری رہا اور پرانے مصنوعی سیاروں کو مدار سے ہٹانے کے لیے موجودہ حفاظتی طریقہ کار بھی برقرار رہے تو خلائی ماحول مزید گنجان ہوجائے گا۔

یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق موجودہ رویوں کے جاری رہنے کی صورت میں تصادم کی شرح وقت کے ساتھ تیزی سے بڑھ سکتی ہے اور مستقبل میں بعض مداروں کا استعمال مشکل ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں زمین سے تقریباً 520 سے ایک ہزار کلومیٹر کی بلندی والے بعض مدار کے علاقوں کو خاص طور پر حساس قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان علاقوں میں سنگین تصادم کی صورت میں نیا ملبہ قدرتی طور پر ختم ہونے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پیدا ہوسکتا ہے۔

خلائی ملبے میں پرانے راکٹوں کے بڑے حصے بھی شامل ہیں جو طویل عرصے تک مدار میں موجود رہ سکتے ہیں۔ زیادہ بلندی پر موجود ملبہ کئی دہائیوں سے صدیوں تک مدار میں رہ سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں خلاء کے ناقابل استعمال ہونے کا امکان کم ہے تاہم مدار میں بڑھتی بھیڑ کے باعث خلائی سرگرمیوں کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ طویل مدت میں، ممکنہ طور پر اگلے 15 برس یا اس کے بعد خلائی ملبے کے مسلسل بڑھتے ہوئے سلسلے کے باعث ایسی صورتحال پیدا ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے جسے ’’کیسلر سنڈروم‘‘ کہا جاتا ہے۔