موبائل فون استعمال کرنے کے لیے عام طور پر زمین پر موبائل ٹاورز لگائے جاتے ہیں جو موبائل فون کو سنگنلز فراہم کرکے رابطہ میں مدد دیتے ہیں تاہم اب سائنس دانوں نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جس میں موبائل ٹاور زمین پر نہیں بلکہ ہوا میں معلق یا سفر کرتے ہوئے سنگنلز فراہم کریں گے۔
اس مقصد کے لیے امریکی کمپنی کائے نے ایک بغیر پائلٹ کے بڑے غبارے نما ہوائی جہاز کا تجربہ کیا اس میں وہ تمام تر خصوصیات موجود تھی جو کسی موبائل ٹاور میں ہوتی ہیں پھر اسے زمین سے تقریباً 16 سے 17 کلومیٹر کی بلندی یعنی تقریباً 10 میل اوپر اڑایا اور حیران کن طور پر اس نے امریکا سے جاپان تک کا سفر طے کیا اور اس دوران اس سے منسلک تمام موبائل فونز کو سگنلز فراہم کیے۔
ایچ اے پی ایس نامی اس ایئر شپ کو 9 اگست کو امریکہ کے شہر روز ویل نیو میکسکو سے روانہ کیا گیا اور تقریباً 13 دن بعد یہ سفر طے کرتے ہوئے جاپان کے قریب پہنچ گیا۔ اس نے اپنے پورے سفر میں تقریباً 30 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا حیران کن طور پر یہ کئی دن تک جاپان کے اوپر موجود رہا اور پھر واپس امریکہ آگیا۔
اس ایئر شپ میں ایک خاص کائے سیل نامی موبائل ٹاور نصب تھا اور یہ جاپان کی موبائل کمپنی سافٹ بینک کے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک تھا اسی کے ساتھ مل اس نے سنگنلز فراہم کرنے کا کام انجام دیا۔
حیران کن طور پر زمین پر موجود عام لوگوں کے موبائل فون نے اس آسمانی ٹاور سے نہ صرف سگنل حاصل کیے بلکہ لوگوں کو اپنے موبائل فون میں کوئی خاص تبدیلی بھی کرنی پڑی۔
اس تجربے کے دوران لوگوں نے موبائل فون پر کالز کیں، پیغامات بھیجے، انٹرنیٹ چلایا اور ویڈیوز بھی دیکھیں یہ تمام تجربات کھلی جگہوں کے علاوہ درختوں کے نیچے اور عمارتوں کے اندر بھی کیے گئے۔
زمین سے اتنی بلندی پر ٹاور رکھنے کا فائدہ کیا ہے؟
زمین پر موبائل ٹاور لگانے کے لیے جگہ، بجلی، فائبر یا دوسرے نیٹ ورک کنکشن اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے یہاں تک کہ کچھ علاقوں میں ٹاور لگانا بہت مشکل یا مہنگا ہوتا ہے۔ مثلاً دور دراز دیہات، پہاڑی علاقے، سمندر کے قریب یا سمندر میں موجود علاقےجنگلات، قدرتی آفات سے متاثرہ علاقے۔ ایسے مقامات پر ایک آسمانی موبائل ٹاور نسبتاً بڑے علاقے کو ۔سگنل فراہم کرسکتا ہے




















