Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ارجنٹائن کے ساحل پر درجنوں وہیل مچھلیوں کے بچوں کی پراسرار اموات سے سائنسدانوں پریشان

تحقیقاتی ٹیم مردہ وہیل کے بچوں کے جسموں سے جلد اور اندرونی اعضا کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری میں ان کا تجزیہ کررہی ہے

ارجنٹائن کے ساحل پر وہیل مچھلی کے بچوں کی غیر معمولی تعداد میں ہلاکتوں نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ماہرین نے اموات کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

پیٹاگونیا کے علاقے میں واقع جزیرہ نما ویلڈس کے ساحل پر بڑی تعداد میں جنوبی رائٹ وہیل کے مردہ بچے بہہ کر پہنچ رہے ہیں۔ یہ علاقہ جنوبی رائٹ وہیلز کی افزائش اور بچوں کی پیدائش کے لیے اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس کے ون ہیلتھ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ماہر ڈاکٹر مارسیلا اوہارت کے مطابق گزشتہ 23 سال کی نگرانی کے دوران ایسی غیر معمولی صورتحال پہلے نہیں دیکھی گئی۔

ماہرین کا ابتدائی شبہ ہے کہ وہیل کے بچے سمندری بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں، جو کیلپ گلز کے حملوں سے جسم پر بننے والے زخموں کے ذریعے اندر داخل ہوسکتے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم مردہ وہیل کے بچوں کے جسموں سے جلد اور اندرونی اعضا کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری میں ان کا تجزیہ کررہی ہے۔ ٹشوز میں بیکٹیریا کی موجودگی سامنے آئی ہے تاہم حتمی طور پر یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ یہی اموات کی وجہ ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق سمندری درجہ حرارت میں اضافے اور دیگر ماحولیاتی تبدیلیاں بھی بیکٹیریا کے زیادہ خطرناک ہونے اور ننھی وہیلز کی قوتِ مدافعت پر اثر انداز ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وہیلز کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا تعلق انسانی سرگرمیوں سے ثابت ہوا تو ان عوامل کو تبدیل کرنا ہوگا تاکہ ان نایاب سمندری جانوروں کو دوبارہ خطرے سے بچایا جاسکے۔