Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پارلیمنٹ کی مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری

اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور حکومتی اقدام کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی

 پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کی توثیق سے متعلق قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی، جس کے حق میں 214 جبکہ مخالفت میں 56 ارکان نے ووٹ دیا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور حکومتی اقدام کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سمیت حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے صدر مملکت کی جانب سے جاری ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اعلانات ایوان میں پیش کیے۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق دستاویزات آئین کے آرٹیکل 232 کی شق 7، جبکہ گورنر راج کے اعلان سے متعلق کاغذات آرٹیکل 234 کی شق 3 کے تحت مشترکہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔ ان اقدامات کی آئینی توثیق کے لیے قرارداد پر کارروائی کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا اور ووٹوں کی گنتی کو چیلنج کردیا، جس پر اسپیکر نے قرارداد کے حق اور مخالفت میں ارکان کی تعداد شمار کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی تقاضے پورے کرنے کے لیے مشترکہ اجلاس بلایا گیا ہے اور اس معاملے پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پہلے ہی بحث ہوچکی ہے۔

اجلاس کے آغاز میں اسپیکر نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے جاں بحق بچوں اور اساتذہ کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کی۔ ارکان نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔

اپوزیشن ارکان سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے اور کارروائی کے دوران حکومتی فیصلے کے خلاف نعرے لگاتے رہے، تاہم احتجاج کے باوجود ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی قرارداد 214 ووٹوں سے منظور کرلی گئی۔

متعلقہ خبریں