جگر کے کینسر کی تشخیص کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا نمونہ سامنے آیا ہے جس نے ہیپاٹائٹس بی سے متاثرہ مریضوں میں کینسر اور کینسر کے بغیر رسولیوں کے درمیان فرق کرنے میں حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اس طریقے میں خون میں موجود وراثتی مادے کی کیمیائی تبدیلیوں سے متعلق نشانات کو مریض کی طبی معلومات اور خون کے ٹیسٹ کے نتائج کے ساتھ ملا کر استعمال کیا گیا۔
اس کا مقصد جگر میں پائی جانے والی مشتبہ رسولیوں کی زیادہ درست تشخیص میں مدد فراہم کرنا ہے۔
586 مریضوں پر تحقیق کی گئی
محققین نے ہیپاٹائٹس بی کے شکار 586 ایسے مریضوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جن کے جگر میں رسولیاں موجود تھیں۔ ان میں سے 217 مریضوں میں جگر کے کینسر کی تشخیص کی تصدیق ہوئی۔
تحقیق میں مریضوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروہ میں 411 مریض شامل تھے جن کے اعداد و شمار سے تشخیصی نمونہ تیار کیا گیا جب کہ دوسرے گروہ کے 175 مریضوں پر اس کی کارکردگی جانچی گئی۔
مختلف مصنوعی ذہانت کے طریقوں کا موازنہ کرنے کے بعد ایک طریقے نے بہتر نتائج دیے۔ اس کی مجموعی تشخیصی درستگی 81.1 فیصد رہی جب کہ کینسر سے متاثرہ مریضوں کی شناخت کی شرح 80 فیصد اور کینسر کے بغیر مریضوں کی درست شناخت کی شرح 81.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
خون کے ٹیسٹ اور طبی معلومات سے مدد
اس تشخیصی طریقے میں مریض کی عمر، جگر کی حالت، رسولی کا حجم، خون میں مخصوص پروٹین کی مقدار اور جگر کی کارکردگی سے متعلق مختلف اشاریوں کو شامل کیا گیا۔ اس کے ساتھ وراثتی مادے کی کیمیائی تبدیلیوں سے متعلق دو مخصوص نشانات بھی استعمال کیے گئے۔
محققین کے مطابق ان معلومات کو یکجا کرنے سے جگر کے کینسر کے امکان کا زیادہ بہتر اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔
معمول کے طبی استعمال سے پہلے مزید تحقیق ضروری
محققین نے واضح کیا کہ اس طریقے کی جانچ ابھی محدود دائرے میں کی گئی ہے۔ اس لیے مختلف مریضوں اور آزاد طبی مراکز میں مزید تحقیق کے ذریعے اس کی افادیت کی تصدیق ضروری ہے۔
تحقیق کے نتائج امید افزا ہیں تاہم یہ طریقہ فی الحال جگر کے کینسر کی حتمی تشخیص کا متبادل نہیں ہے۔ مزید جانچ کے بعد اسے ڈاکٹروں کے لیے ایک معاون تشخیصی ذریعہ بنانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔




















