پنجاب حکومت نے آئندہ سال مارچ کے دوسرے ہفتے میں صوبے بھر میں بسنت منانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پتنگوں اور ڈور کی تیاری، قیمتوں پر کنٹرول اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پتنگیں بنانے کے لیے مخصوص مقامات مختص کرنے کا انتظامی منصوبہ تیار کرلیا ہے، جبکہ پتنگوں اور ڈور کی قیمتیں قابو میں رکھنے کے لیے بھی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ بسنت کے دوران پتنگ بازی کے قواعد و ضوابط اور حفاظتی اقدامات کو قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔ جشن کے لیے مخصوص مقامات اور تفصیلی قواعد کا اعلان جلد متوقع ہے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک 10 روزہ بسنت فیسٹیول کی منظوری دی تھی۔ ترجمان کے مطابق 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے احترام میں بسنت کی تقریبات ایک روز کے لیے معطل رہیں گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا تھا کہ بسنت پنجاب کی تاریخی اور ثقافتی روایات کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ تقریبات کے دوران شہریوں کی حفاظت کے لیے بہترین ممکنہ انتظامات کیے جائیں۔
لاہور میں دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد رواں سال فروری میں بسنت کا میلہ منعقد ہوا تھا، جب پنجاب حکومت نے پتنگ بازی پر عائد پابندی ختم کی۔ تین روزہ تقریبات سخت ضابطوں کے تحت منعقد کی گئیں، شہر کی سڑکوں اور گلیوں کو روشنیوں اور سجاوٹ سے آراستہ کیا گیا، جبکہ چھتوں پر تقریبات رات گئے تک جاری رہیں۔ شہریوں کی سہولت کے لیے مفت ٹرانسپورٹ سروس بھی فراہم کی گئی تھی۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے رواں سال کی تقریبات کو لاہور اور پاکستان کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ سال بسنت پہلے سے زیادہ بھرپور انداز میں منائی جائے گی۔

















