اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس ریکروٹمنٹ رولز 2014 کی بحالی کا حکم جاری کرتے ہوئے ریلوے افسران کی سنیارٹی سے متعلق فیڈرل سروس ٹریبیونل کا 17 اکتوبر 2022 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس عائشہ ملک نے تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں قرار دیا گیا کہ سروس رولز 1990 کا اطلاق صرف ابتدائی پروبیشنری مرحلے پر ہوگا، دہائیوں پرانی محکمانہ روایات اور سی ایس ایس امتحان کی میرٹ پر مبنی سنیارٹی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق پروبیشن کی مدت مکمل کر کے باقاعدہ ترقی پانے والے سول سرونٹس کی سنیارٹی متاثر نہیں ہوگی، ریلوے ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پرانی سنیارٹی لسٹوں میں ردوبدل اور ریٹرو اسپیکٹو نفاذ غیر قانونی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت سروس ٹریبیونل کا دائرہ اختیار صرف سرکاری ملازمین کی ملازمتی شرائط و ضوابط تک محدود ہے، اگر طے شدہ قواعد سے کسی ملازم کے بنیادی یا قانونی حقوق متاثر نہ ہو رہے ہوں تو ٹریبیونل کے لیے انتظامی فیصلے یا پالیسی میں مداخلت کرنا غیر آئینی ہے۔
یاد رہے کہ محکمہ دہائیوں سے افسران کی سنیارٹی سی ایس ایس امتحان کے میرٹ کی بنیاد پر طے کرتا چلا آ رہا تھا تاہم ریلوے نے 27 اگست 2014 کو نظرثانی شدہ سنیارٹی لسٹ جاری کی جس کے بعد سروس ٹریبونل اور سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔
ریلوے محکمے نے 29 جون 2022 اور 20 مارچ 2023 کو سی ایس ایس امتحان کے میرٹ پر مبنی پروویژنل سنیارٹی لسٹیں جاری کیں، ان پروویژنل لسٹوں کے خلاف افسران نے فیڈرل سروس ٹریبونل میں اپیلیں دائر کیں۔
ٹریبونل نے 19 ستمبر 2025 کے فیصلے میں ریلوے کی لسٹیں کالعدم کر کے 1990 کے رولز کے تحت نئی لسٹیں بنانے کا حکم دیا تھا۔




















