امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ریپبلکن پارٹی میں شکست کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے انتخابی ناکامی کا ذمہ دار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابات سے قبل ریپبلکن قیادت کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونے کا خدشہ تھا تاہم سینیٹ میں کامیابی کی امید برقرار تھی۔ انتخابی نتائج کے بعد پارٹی کو دونوں ایوانوں میں اپنا کنٹرول کھونے کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔
ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے کہا ہے کہ انتخابی شکست کی مکمل ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔ انتخابی نتائج دراصل ٹرمپ کی پالیسیوں کو مسترد کیے جانے کا اظہار ہیں اور اس ناکامی کا ذمہ دار کوئی دوسرا نہیں۔
انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ٹیکساس اور جنوبی کیرولائنا سمیت ان ریاستوں میں بھی سینیٹ کی نشستیں حاصل کیں جہاں انہیں کئی برسوں سے کامیابی نہیں ملی تھی۔ اس کے علاوہ آئیووا اور اوہائیو میں بھی ڈیموکریٹس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
ریپبلکن رہنماؤں کے مطابق صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی سے متعلق عوامی خدشات کو نظرانداز کرنے کے رویے نے پارٹی کی انتخابی پوزیشن کو نقصان پہنچایا۔
ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر گریگ پیپن نے بھی پارٹی کی انتخابی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غلطیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا جبکہ مختلف ریاستوں کے ووٹرز نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔


















