دنیا بھر میں کھلاڑی اپنے کھیل پر مہارت رکھنے کی وجہ مقبولیت حاصل کرتے تاہم کچھ کھلاڑی کھیل کے ساتھ دیگر خصوصیات کی وجہ سے بھی مشہور ہوجاتے ہی ایسا ہی ایک معاملہ قطر سے تعلق رکھنے والی کھلاڑی کے ساتھ پیش آیا جو کم ہونے کے باوجود اپنے دراز قد کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
رواں برس ایشین والی بال چیمپئن شپ میں قطر کی ٹیم اگرچہ کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکی لیکن اس کے ایک کم عمر کھلاڑی نے سب کی نظریں اپنی جانب ضرور مبذول کر لیں۔
قطر کی نمائندگی کرنے والے مبارک موسیٰ تھیک مادوت کی عمر سرکاری ریکارڈ کے مطابق صرف 13 سال ہے، لیکن حیران کن طور پر ان کا قد 2.10 میٹر، یعنی تقریباً 6 فٹ 11 انچ ہے۔ وہ نہ صرف قطر کی ٹیم کا سب سے طویل قامت کھلاڑی ہے بلکہ میدان میں اپنی غیر معمولی مہارت اور تجربہ کار اندازِ کھیل سے بھی شائقین کو حیران کر رہیں ہیں۔
قطر کو گروپ مرحلے میں تھائی لینڈ، تائی پے اور جنوبی کوریا کے ہاتھوں تینوں میچوں میں شکست ہوئی، تاہم مبارک نے ان مقابلوں میں اپنی ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ 40 پوائنٹس اسکور کیے۔
مبارک کی جسمانی قامت کے ساتھ ساتھ اس کی کھیل پر گرفت بھی لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنی ہوئی ہے۔ عام طور پر اس عمر کے کھلاڑیوں کو ابھی بنیادی مہارتیں اور میدان میں اپنی حرکات بہتر بنانے کے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے، لیکن مبارک انتہائی اعتماد کے ساتھ کھیلتا دکھائی دیتا ہے، جیسے اسے کئی برسوں کا تجربہ حاصل ہو۔
پروفائل کے مطابق مبارک موسیٰ تھیک مادوت 24 نومبر 2012 کو جنوبی سوڈان میں پیدا ہوئے تاہم بعد میں انہیں قطر کی شہریت دی گئی، اس کے بعد وہ سرکاری مقابلوں میں قطر کی نمائندگی کرنے لگے۔
حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ مبارک پہلے ہی ایشین انڈر-18 بیچ والی بال چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیت چکے ہیں اس کامیابی نے بھی اس کی عمر کے بارے میں سوشل میڈیا اور کھیلوں کے حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔
یقیناً 13 سال کی عمر میں دو میٹر سے زیادہ قد ہونا غیر معمولی ہے لیکن یہ ناممکن نہیں۔ اصل حیرت اس کے کھیل کے انداز پر ہے۔ اس کی تیز نقل و حرکت، پوزیشننگ اور کھیل کی سمجھ اسے اپنی عمر سے کہیں زیادہ تجربہ کار دکھاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض افراد نے اس کی عمر کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی کی ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ افریقہ کے کچھ علاقوں میں ماضی میں پیدائش کا باقاعدہ اندراج نہ ہونے کی وجہ سے تاریخِ پیدائش کے ریکارڈ میں غلطیاں ممکن ہیں۔ تاہم، یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں اور ان کے حق میں کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں خطروں کے کھلاڑیوں کیلئے انوکھی زیپ لائن تیار
اب تک قطر والی بال فیڈریشن کی جانب سے مبارک کی عمر سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
فی الحال اتنا ضرور واضح ہے کہ 13 سالہ مبارک موسیٰ تھیک مادوت اپنی غیر معمولی قامت اور کھیل کی صلاحیت کے باعث ایشین والی بال کے سب سے زیادہ زیرِ بحث نوجوان کھلاڑیوں میں شامل ہو چکا ہے۔




















