موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا کے خشک علاقوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، سائنسدانوں کے مطابق رواں صدی کے اختتام تک زمین کا 40 فیصد سے زیادہ رقبہ ایسے علاقوں پر مشتمل ہوسکتا ہے جہاں پانی کی شدید کمی کا سامنا ہوگا۔
چین کے ماہرین کی نئی تحقیق کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث کئی نسبتاً مرطوب علاقوں میں بھی خشکی بڑھ سکتی ہے جس سے پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی اور صحرائی پھیلاؤ جیسے مسائل سنگین ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے جدید موسمیاتی اندازوں کی مدد سے دنیا میں خشک علاقوں کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں ان کے ممکنہ پھیلاؤ کا جائزہ لیا ہے۔
تحقیق کے مطابق 1994 سے 2023 کے دوران دنیا کے زمینی رقبے کا تقریباً 38.58 فیصد حصہ خشک علاقوں پر مشتمل تھا تاہم موجودہ موسمیاتی رجحانات برقرار رہے تو 2071 سے 2100 کے دوران یہ شرح بڑھ کر 39.31 سے 40.28 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق خشک علاقوں میں نیم خشک، خشک، نسبتاً خشک مرطوب اور انتہائی خشک علاقے شامل ہیں۔ موجودہ صورتحال میں نیم خشک علاقے دنیا کے زمینی رقبے کا سب سے بڑا حصہ رکھتے ہیں جب کہ انتہائی خشک علاقوں میں بھی نمایاں اضافے کا امکان ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صحرا اور خشک علاقوں میں اضافے سے پانی کی دستیابی مزید متاثر ہوسکتی ہے جب کہ قدرتی ماحول، پودوں اور زرعی سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
دلچسپ طور پر تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار بعض صورتوں میں خشک علاقوں کے پھیلاؤ کی رفتار کو کم کرسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی میں پودے اپنے پتوں سے پانی کے اخراج کو محدود کردیتے ہیں جس سے زمین کی خشکی کے اندازوں پر اثر پڑتا ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بڑھتی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ ماحول کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے مجموعی اثرات بدستور تشویشناک ہیں۔
نئی تحقیق کے اندازے کے مطابق صدی کے اختتام تک خشک علاقوں میں تقریباً 23 لاکھ 70 ہزار مربع کلومیٹر کا اضافہ ہوسکتا ہے جو رقبے کے اعتبار سے الجزائر کے حجم کے برابر ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ آسٹریلیا میں اس صدی کے دوران خشک علاقوں میں سب سے نمایاں تبدیلی متوقع ہے جبکہ برازیل اور افریقا کے بعض حصوں میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ خشک علاقوں کے پھیلاؤ سے پانی کی قلت اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو لاحق خطرات بڑھ سکتے ہیں، اس لیے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور پائیدار ترقی کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔




















