Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سنگاپور میں بس کا سفر، معمولی خلاف ورزی بھی بھاری پڑ سکتی ہے

تاہم بس ڈرائیورز، جنہیں سنگاپور میں ’کیپٹن‘ کہا جاتا ہے، جرمانے کا نوٹس جاری کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے

سنگاپور میں پبلک بسوں کے مسافروں کے لیے نئے سخت قواعد نافذ کردیئے گئے ہیں جن کے تحت بس میں اونچی آواز میں آڈیو چلانے، سیٹ پر پاؤں رکھنے، کھانے پینے یا کچرا پھینکنے پر 500 سنگاپور ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

نئے قوانین کے مطابق بس میں ایسے مسافروں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی جو دوسرے مسافروں کے لیے زحمت یا خلل کا باعث بنیں۔ لینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (LTA) کے مطابق ان اقدامات کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ میں زیادہ محفوظ، مہذب اور خوشگوار ماحول یقینی بنانا ہے۔

اس سے زیادہ سنگین خلاف ورزیوں پر 5 ہزار سنگاپور ڈالر تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ ان میں بس ٹرمینل یا بس انٹرچینج میں مسافروں کے لیے رکاوٹ یا خطرہ پیدا کرنا، جبکہ بس، بس انٹرچینج یا ٹرمینل کے کسی حصے کو گندا کرنا بھی شامل ہے۔

لینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے نئے قوانین کا اعلان پیر کو کیا۔ یہ ضوابط سنگاپور کے ریلوے یا ماس ریپڈ ٹرانزٹ (MRT) نظام میں پہلے سے نافذ قواعد سے مطابقت رکھتے ہیں۔

بسوں میں کھانے پینے یا دیگر ناپسندیدہ حرکات پر پہلے بھی بس کمپنیوں کی جانب سے داخلی قواعد کے تحت کارروائی کی جاتی تھی، تاہم اب ان رویوں کو باضابطہ قانونی خلاف ورزی قرار دے دیا گیا ہے اور فوری جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

نئے نظام کے تحت مجاز بس عملہ، جس میں ٹکٹ انسپکٹرز اور بس انٹرچینج کا عملہ شامل ہے، خلاف ورزی کے شبہ میں مسافر کو باضابطہ نوٹس جاری کرسکے گا۔

تاہم بس ڈرائیورز، جنہیں سنگاپور میں ’کیپٹن‘ کہا جاتا ہے، جرمانے کا نوٹس جاری کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ حکام کے مطابق ڈرائیوروں کی بنیادی ذمہ داری بس کو محفوظ انداز میں چلانا ہے۔

بس ڈرائیور کسی مسافر کو پریشان کن یا خلل ڈالنے والا رویہ روکنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ اگر کوئی مسافر تعاون سے انکار کرے تو اسے بس سے اترنے کے لیے کہا جاسکتا ہے، جبکہ سنگین صورتحال میں پولیس کی مدد بھی طلب کی جاسکتی ہے۔

سنگاپور حکام کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط کا مقصد مسافروں کو غیر ضروری طور پر تنگ کرنا نہیں بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں نظم و ضبط، صفائی اور دوسروں کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔

Exit mobile version