ایک 16 سالہ لڑکے کی غیر معمولی یادداشت نے ماہرین کو حیران کردیا ہے جو اپنی زندگی کے گزرے ہوئے واقعات کو انتہائی باریک تفصیلات کے ساتھ یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
محققین کے مطابق دنیا میں ایسے افراد کی تعداد 100 سے بھی کم سمجھی جاتی ہے جنہیں اپنی ذاتی زندگی کے واقعات غیر معمولی حد تک واضح انداز میں یاد رہتے ہیں۔ تحقیق میں شامل نوجوان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور اسے مختصر نام کے سی سے منسوب کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق نوجوان نے فروری 2025 میں یادداشت کے ماہر کرستیان بارزیکووسکی سے رابطہ کیا اور اپنی غیر معمولی یادداشت کے بارے میں بتایا۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے تقریباً تین ماہ کی عمر سے اپنی زندگی کے بعض واقعات یاد ہیں۔
اس کے والدین نے بھی اس کی ابتدائی عمر کے کچھ واقعات کی یادداشت کی تصدیق کی۔ نوجوان کے مطابق تقریباً تین سال کی عمر کے بعد اسے اپنی زندگی کے بیشتر واقعات مسلسل اور واضح انداز میں یاد رہنے لگے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ بعض اوقات معمولی چیزیں بھی اس کی پرانی یادیں تازہ کردیتی ہیں۔ کسی خوشبو، گانے یا مخصوص جملے سے اسے ماضی کے ایسے واقعات یاد آجاتے ہیں جن کی تفصیلات عام افراد کے لیے وقت گزرنے کے ساتھ دھندلی ہوجاتی ہیں۔
محققین نے مختلف آزمائشوں کے ذریعے نوجوان کی یادداشت کا جائزہ لیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ اس کی اپنی زندگی کے واقعات یاد رکھنے کی صلاحیت عام آبادی کے 99.9 فیصد سے بھی زیادہ افراد کے مقابلے میں غیر معمولی سطح پر ہے۔
تاہم ماہرین نے یہ بھی پایا کہ اس کی توجہ، عارضی یادداشت اور فیصلے کرنے کی عمومی صلاحیتیں عام افراد سے غیر معمولی طور پر مختلف نہیں تھیں۔ اس کی ذہنی اور تعلیمی نشوونما بھی معمول کے مطابق رہی۔
محققین کے مطابق ایسے افراد کو مجموعی طور پر ہر قسم کی یادداشت میں غیر معمولی برتری حاصل نہیں ہوتی۔ ان کی خاص صلاحیت بنیادی طور پر اپنی زندگی کے واقعات کو محفوظ رکھنے اور ضرورت کے وقت انہیں انتہائی آسانی سے دوبارہ یاد کرنے سے متعلق ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوجوان کا معاملہ اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ انسانی دماغ ذاتی تجربات اور ماضی کے واقعات کو کس طرح محفوظ کرتا اور دوبارہ یاد کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق غیر معمولی یادداشت کا تعلق صرف زیادہ معلومات یاد رکھنے سے نہیں بلکہ ماضی کے واقعات تک رسائی حاصل کرنے کے مختلف ذہنی طریقوں سے بھی ہوسکتا ہے۔
