لکڑی دنیا کی ان بہترین مٹیریل میں شامل ہیں جو ہلکی مضبوط اور ماحول دوست ہے لیکن اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے آسانی سے موڑا نہیں جا سکتا تاہم اب سائنس دانوں نے اسے موڑنے کا ایک نیا اور آسان طریقہ دریافت کیا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس نئے طریقے میں سائرین (Cyrene) نامی ایک خاص مائع استعمال کیا جاتا ہے یہ مائع سیلولوز سے بنایا جاتا ہے اور نسبتاً ماحول دوست سمجھا جاتا ہے۔
لکڑی کو نرم اور لچکدار بنانے کے لیے سائنس دان اسے سائرین اور پانی کے مرکب میں بھگوتے ہیں پھر اس مرکب کو تقریباً 65 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا جاتا ہے۔

یہ حیرت انگیز مائع لکڑی کے اندر موجود مادے لگنن کے ساتھ کام کر کے اس کے اندر موجود مادے کو نرم کردیتا ہے اس طرح یہ زیادہ نرم اور لچکدار بن جاتی ہے۔
اس عمل کت بعد لکڑی کو آسانی سے موڑا یا لپیٹا جا سکتا ہے تاہم خشک ہونے پر لکڑی اپنی نئی شکل برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ اصلی حالت میں آجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کھانے پکانے کے لیے لکڑی کے برتنوں کا استعمال کیوں کرنا چاہیے؟ ماہرین نے بتادیا
اس طریقہ کار کے بہت سے فائدے ہیں جیسے اس کے لیے نہ تو بہت زیادہ گرمی کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی لکڑی کو کاٹ کر باریک تہوں میں تقسیم کرنا پڑتا۔مہنگے یا پیٹرولیم سے بنے چپکنے والے مادے استعمال نہیں ہوتے اور ساتھ ہی لکڑی کی قدرتی خصوصیات برقرار رہتی ہیں۔
یہ طریقہ ماحول کے لیے بھی بہتر ہے۔سائنس دانوں نے یہ تجربہ مختلف قسم کی لکڑیوں مثلاً بالسا، لنڈن، اخروٹ، اوکومے اور ایش پر آزمایا۔
تاہم ابھی یہ تجربہ صرف 2 سے 5 ملی میٹر موٹی لکڑی پر کیا گیا ہے اب سائنس دان کوشش کر رہے ہیں کہ یہی طریقہ موٹی اور بڑی لکڑی پر بھی کامیابی سے استعمال کیا جا سکے۔
اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں اس سے فرنیچر، گھر کی سجاوٹ، موسیقی کے آلات اور کھلونے بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔