Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نظام شمسی میں نویں سیارے کے ممکنہ شواہد مل گئے

نواں سیارہ ممکنہ طور پر سورج کے گرد انتہائی لمبے مدار میں گردش کرتا ہے۔

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی میں ممکنہ طور پر موجود نویں بڑے سیارے کے بارے میں اہم پیش رفت کی ہے.

کئی برس سے ماہرین فلکیات یہ امکان ظاہر کرتے رہے ہیں کہ نیپچیون سے بہت دور موجود بعض اجرام کی غیر معمولی حرکت اور مدار کا جھکاؤ کسی نامعلوم بڑے سیارے کی کشش ثقل کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

مفروضہ نواں سیارہ ممکنہ طور پر نیپچیون جتنا بڑا ہوسکتا ہے اور سورج کے گرد انتہائی لمبے مدار میں گردش کرتا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ سورج سے زمین کے فاصلے کے مقابلے میں تقریباً 300 گنا دور ہوسکتا ہے۔

تاہم اب تک مختلف مشاہداتی کوششوں کے باوجود یہ سیارہ براہ راست نظر نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ سورج سے انتہائی دور ہے اور اس تک پہنچنے والی روشنی کا بہت معمولی حصہ ہی واپس زمین تک پہنچ پاتا ہے۔

اسی وجہ سے تائیوان کی نیشنل تسنگ ہوا یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ٹیری لانگ فان نے اس ممکنہ سیارے کو تلاش کرنے کے لیے مختلف طریقہ اختیار کیا۔

انہوں نے جاپان اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک کے ماہرین کے ساتھ مل کر دو خلائی دوربینوں کے پرانے مشاہداتی اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ دونوں مشاہدات کے درمیان تقریباً 23 سال کا فرق تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر نواں سیارہ واقعی سورج سے 300 گنا دور موجود ہے تو وہ انتہائی سست رفتاری سے حرکت کرے گا۔ اسی لیے 23 سال کے وقفے میں اس کی معمولی سی جگہ تبدیل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔

تحقیقی ٹیم نے کمپیوٹر کی مدد سے ہزاروں خلائی اجسام میں ایسے جوڑ تلاش کیے جو 23 سال کے دوران متوقع مقدار میں اپنی جگہ تبدیل کرچکے ہوں۔ ابتدائی طور پر 13 ممکنہ جوڑے سامنے آئے، جنہیں ماہرین نے دوبارہ جانچا۔

تفصیلی جانچ کے بعد صرف ایک جوڑا باقی رہ گیا۔ اس مدھم خلائی جرم نے 23 برس کے دوران تقریباً 47.5 زاویائی منٹ کی حرکت کی جو مکمل چاند کی چوڑائی سے تقریباً ڈیڑھ گنا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ممکنہ طور پر نویں سیارے کے مشاہداتی شواہد میں اہم پیش رفت ہوسکتی ہے تاہم ابھی حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ واقعی نیا سیارہ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس جرم کے مدار کی درست نشاندہی کے لیے مزید مشاہدات ضروری ہیں جن کے ذریعے اس کی مزید پوزیشنز معلوم کی جائیں گی۔