شہد کی مکھی کے ڈنک کی جلن اور چبھن سے کون واقف نہیں اس کا یہ خاردار ڈنک بظاہر دفاع کے لیے استعمال ہونے والا ایک ننھا سا اذیت دینے والا ہتھیار ہے، تاہم دوسری جانب یہ دیگر جاندار کی نسبت زہر جسم کے اندر داخل کرنے والے نظاموں میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور جدید نظاموں میں سے ایک بھی ہے۔
بچھو اور مکڑیاں نسبتاً سادہ طریقے سے اپنے شکار کے جسم میں زہر داخل کرتی ہیں، لیکن شہد کی مکھیاں ایک پیچیدہ دو مرحلوں والے پمپنگ نظام کے ذریعے زہر کو اپنے شکار کے جسم میں داخل کرتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مکھی کے ڈنک مارنے کے بعد اڑ جانے یا مر جانے کے باوجود بھی یہ عمل جاری رہ سکتا ہے۔
اگرچہ سائنس دان ایک صدی سے زیادہ عرصے سے شہد کی مکھی کے ڈنک کی اس غیر معمولی ساخت سے واقف تھے، لیکن اب تک کسی نے اس کے عملی طریقۂ کار کو براہِ راست کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔
رامیریز ایسکیول نے محققین کی ایک ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے شہد کی مکھی کے ڈنک کے عمل کا مطالعہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ہائی اسپیڈ ویڈیو کے ذریعے پہلی مرتبہ یہ عمل ریکارڈ کیا اور واضح کیا کہ دو لچک دار والو کس طرح ننھے پسٹنوں کی جوڑی کی طرح مل کر زہر کو ہدف کے بافتوں میں گہرائی تک پہنچاتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج نہ صرف شہد کی مکھی کی حیاتیات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں بلکہ انجینئروں کو طبی آلات کے لیے نئی اقسام کے مائیکرو پمپ تیار کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہد کی مکھیاں کام کو کس طرح تقسیم کرتی ہیں؟ اہم انکشاف سامنے آگیا
جس کسی کو شہد کی مکھی نے کبھی ڈنک مارا ہو، وہ جانتا ہے کہ یہ ننھی مخلوق خطرہ محسوس ہونے پر اپنے دفاع میں ڈنک مار سکتی ہے۔ اس عمل میں مکھی اپنی جان بھی گنوا سکتی ہے۔
اس کیفیت کو سائنسی اصطلاح میں آٹو ٹومی کہا جاتا ہے جس میں حملہ آور مکھی کا ڈنک اس کے جسم سے الگ ہوجاتا ہے لیکن اس کے بعد بھی ڈنک کا نظام خودمختار طور پر کام کرتا رہتا ہے۔ اسے چلانے کے لیے ڈنک سے منسلک پٹھے، مختلف غدود، اعصابی گچھے اور زہر کی تھیلی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
مکھی کے جسم سے الگ ہوجانے کے باوجود یہ نظام حرکت کرتا رہتا ہے، بافتوں میں مزید گہرائی تک داخل ہوتا ہے اور ایک باریک نالی کے ذریعے زہر پمپ کرتا رہتا ہے۔

اس عمل کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے میکواری یونیورسٹی اور یو این ایس ڈبلیو کینبرا کے محققین نے مکھی کے جسم سے الگ کیے گئے ڈنکوں کی ویڈیو بنائی۔ ان ڈنکوں کو ایک شفاف جیل میں داخل ہوتے ہوئے فلمایا گیا جسے انسانی جسم کے بافتوں سے مشابہت رکھنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
محققین نے اس ویڈیو کے ساتھ مائیکرو کمپیوٹڈ ٹوموگرافی کی اعلیٰ ریزولیوشن تصاویر بھی استعمال کیں، جن کی مدد سے ڈنک کی پیچیدہ اندرونی ساخت کو تین جہتوں میں دوبارہ تشکیل دیا گیا۔
تحقیق کے دوران ٹیم نے اس بات کی تصدیق کی جس کا سائنس دان طویل عرصے سے شبہ ظاہر کر رہے تھے۔ زہر پمپ کرنے کا عمل دو لمبی اور نوکیلی ساختوں پر منحصر ہے، جنہیں لینسیٹس (Lancets) کہا جاتا ہے۔
یہ دونوں ساختیں ڈنک کے ایک بڑے حصے، جسے اسٹائلیٹ کہا جاتا ہے، کے اندر آگے پیچھے حرکت کرتی ہیں۔
ہر لینسیٹ پر ایک لچک دار والو موجود ہوتا ہے، جو ایک پھیلے ہوئے خانے یا بلب نما حصے کے اندر حرکت کرتا ہے۔ زہر خارج ہونے سے پہلے اسی خانے میں جمع ہوتا ہے۔
یہ دونوں والو ایک دوسرے کی مخالف سمتوں میں حرکت کرتے ہیں۔ اس طرح وہ باری باری زہر کو باہر دھکیلتے ہیں اور مزید زہر اندر آنے کے لیے جگہ بناتے ہیں۔
جب کوئی والو نیچے کی جانب حرکت کرتا ہے تو وہ پھیل کر خانے کی دیواروں سے جڑ جاتا ہے۔ اس طرح ایک بندش پیدا ہوتی ہے اور وہ پسٹن کی طرح کام کرتے ہوئے زہر کو باہر نکلنے کی سمت دھکیل دیتا ہے۔
اس کے برعکس جب والو اوپر کی جانب حرکت کرتا ہے تو وہ سکڑ جاتا ہے اس سے حرکت کے خلاف مزاحمت کم ہوجاتی ہے اور خانے میں مزید زہر داخل ہونے لگتا ہے۔
والو کی شکل میں یہ تبدیلی زخم سے زہر کے واپس کھنچنے کی مقدار کو بھی محدود کرتی ہے۔
اس عمل کے دوران دونوں والو کو اپنی حرکت کے درمیانی مقام پر ایک دوسرے کے پاس سے گزرنا بھی پڑتا ہے۔ اس مرحلے پر وہ عارضی طور پر اپنی شکل بدل کر ایک دوسرے کے لیے جگہ بناتے ہیں اور پھر دوبارہ اپنی پمپنگ کی حرکت جاری رکھتے ہیں۔
اتنے چھوٹے نظام میں اس نوعیت کا عمل غیر معمولی ہے۔ روایتی پسٹن پمپ عموماً مائع کی حرکت کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت اجزا اور والو استعمال کرتے ہیں، لیکن شہد کی مکھی کا ڈنک لچک دار ساختوں کے ذریعے یہی کام انجام دیتا ہے جو مسلسل مڑتی اور اپنی شکل بدلتی رہتی ہیں۔
تاہم جب دونوں والو ایک دوسرے کو عبور کرتے ہیں تو اپنی شکل کس طریقے سے تبدیل کرتے ہیں، اس کی مکمل وضاحت ابھی سامنے نہیں آئی۔ محققین نے اس عمل کے دو ممکنہ طریقے شناخت کیے ہیں، لیکن یہ طے کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے کہ ان میں سے کون سا طریقہ حقیقت سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔
یہ نظام بظاہر انجینئرنگ کے ایک مشکل مسئلے کا حل پیش کرتا ہے: اتنے چھوٹے خانے میں مائع کے مسلسل بہاؤ کو برقرار رکھتے ہوئے اسے بیک وقت دوبارہ بھرنا کس طرح ممکن بنایا جائے؟
شہد کی مکھی کا یہ نظام مختصر، خودکفیل اور مکھی کے جسم سے الگ ہونے کے بعد بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے انجینئروں کے لیے خاص طور پر دلچسپ بناتی ہیں۔
یہ تحقیق اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ قدرت میں موجود ننھی مخلوقات کے جسمانی نظام جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے کس قدر اہم رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔
اور یوں شہد کی اس ذہین ننھی مکھی کو اس کی صلاحیتوں کا حق دینے کی ایک اور وجہ سامنے آگئی ہے۔




















