عراق کے کردستان میں واقع ایک قدیم غار سے ملنے والے تقریباً 75 ہزار سال پرانے انسانی ڈھانچے میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس شخص کی موت نیزے کے وار سے ہوئی تھی۔
محققین کے مطابق کندھے کی ہڈی میں سوراخ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ قدیم انسان ممکنہ طور پر کسی حملے کا نشانہ بنا تاہم اس کی موت کی اصل وجہ کی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی۔
تحقیق کے مطابق اس انسانی ڈھانچے کو ’’شاندار اے‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس کی عمر موت کے وقت تقریباً 45 سال تھی۔ اس کے بائیں کندھے کی ہڈی میں تقریباً 15 ملی میٹر چوڑا سوراخ پایا گیا جس کے گرد ہڈی میں باریک دراڑیں اور ٹوٹے ہوئے حصے بھی موجود تھے۔
محققین کا خیال ہے کہ یہ زخم لکڑی کے نوک دار نیزے سے لگا ہوسکتا ہے۔ وار سینے تک پہنچا ہوگا جس سے پھیپھڑوں اور ممکنہ طور پر اہم خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا ہوگا تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ زخم شکار کے دوران حادثاتی طور پر لگا یا کسی دوسرے انسان نے حملہ کیا۔
قدیم انسان اپنی زندگی میں بھی زخمی ہوا تھا
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس انسانی ڈھانچے کے ایک دانت میں درمیان سے ٹوٹنے کے نشانات موجود تھے۔ ہڈیوں اور دانتوں کے شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ چوٹ موت سے کم از کم ایک سال پہلے لگی تھی اور متاثرہ شخص اس کے بعد بھی زندہ رہا۔
محققین کہتے ہیں کہ ایسی شدید چوٹ کے باوجود زندہ رہنے اور کھانے پینے کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے دوسرے انسانوں کی مدد اور دیکھ بھال ضروری رہی ہوگی۔
قدیم تدفین کے طریقوں پر بھی روشنی
یہ ڈھانچا عراق کے کردستان میں واقع شانیدار غار سے 2019 اور 2022 میں کی جانے والی کھدائی کے دوران ملنے والی باقیات میں شامل ہے۔ اس غار سے اب تک 13 قدیم انسانوں کی باقیات دریافت ہوچکی ہیں۔
محققین کا مزید کہنا ہے کہ ایک ہی محدود مقام پر متعدد افراد کی باقیات ملنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی تدفین کسی باقاعدہ طریقے کے تحت کی جاتی تھی۔
