لندن کے قدرتی تاریخ کے میوزیم میں تقریباً ایک صدی سے محفوظ ڈائنوسار کی باقیات کا معائنہ کرنے پر گوشت خور ڈائنوسار کی ایک نئی قسم کی شناخت ہوئی ہے جو تقریباً 12 کروڑ سال پہلے زمین پر موجود تھی۔
تحقیق کے مطابق کھوپڑی کا یہ ٹکڑا یورپ میں میگاراپٹر نامی گروہ کے ڈائنوسار کی موجودگی کا پہلا مصدقہ ثبوت ہے۔ اس نئی قسم کو اِن وِکٹی بیلاٹرکس ایمبرینا کا نام دیا گیا ہے۔
یہ باقیات برطانیہ کے جزیرے آئل آف وائٹ کے جنوب مغربی ساحل پر ایک چٹان کے دامن سے شوقیہ ماہرِ حجریات ریجنلڈ والٹر ٹولی نے دریافت کی تھیں۔
ان کی وفات کے بعد 1924 میں لندن کے قدرتی تاریخ کے میوزیم نے ان کے ذخیرے سے ایک ہزار سے زیادہ نمونے حاصل کیے جن میں ڈائنوسار کی یہ باقیات بھی شامل تھیں۔
حالیہ تحقیق میں سائنس دانوں نے جدید شعاعی تصویربرداری کی مدد سے اس ٹکڑے کی اندرونی ساخت کا جائزہ لیا اور اس کا سہ جہتی نمونہ تیار کیا۔ تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے رائل سوسائٹی اوپن سائنس میں شائع ہوئے ہیں۔
ڈائنوسار کی جسامت اور شکار
قدرتی تاریخ کے میوزیم کے مطابق میگاراپٹر گروہ کے ڈائنوسار عام طور پر تصور کیے جانے والے چھوٹے، پرندوں جیسے شکاری نہیں تھے۔ ان کے بازو بڑے اور پنجے لمبے، نوکیلے اور خم دار ہوتے تھے جب کہ ان کا تعلق بڑے گوشت خور ڈائنوسار کے قریبی گروہوں سے تھا۔
نئی شناخت ہونے والی قسم کی لمبائی تقریباً 3 سے 4 میٹر اور قد ڈیڑھ میٹر کے لگ بھگ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یہ ابتدائی کریٹیشی دور میں موجود تھی، جب زمین پر ڈائنوسار کا غلبہ تھا۔
محققین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اس کے جسم پر پر بھی ہو سکتے تھے تاہم اس کی اصل شکل کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
یونیورسٹی کالج لندن کے محقق اور تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کیسیئس موریسن کے مطابق یہ ڈائنوسار چھوٹے ڈائنوسار، چھپکلیوں اور ممالیہ جانوروں کا شکار کرتا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ جسامت کے اعتبار سے انسان بھی اس کا ممکنہ شکار بن سکتے تھے۔
اس دریافت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس گروہ کے ڈائنوسار اس سے پہلے ایشیا، آسٹریلیا اور جنوبی امریکا میں شناخت کیے جا چکے ہیں لیکن یورپ میں ان کی موجودگی کا مصدقہ ثبوت اب سامنے آیا ہے۔




















