Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خلا سے پراسرار سگنل موصول، سائنس دان حیران

یہ اشارہ تقریباً دو مرتبہ 88 دن کے وقفے سے موصول ہوا ہے۔

امریکی خلائی ادارے کی جیمز ویب خلائی دوربین نے خلا کے ایک ایسے حصے سے روشنی کا پراسرار اشارہ ریکارڈ کیا ہے جہاں پہلے کسی چیز کی موجودگی نظر نہیں آئی تھی۔ یہ اشارہ دو مرتبہ، تقریباً 88 دن کے وقفے سے موصول ہوا تاہم سائنس دان تاحال اس کی اصل وجہ معلوم نہیں کرسکے۔

یہ اشارہ جنوبی آسمان میں واقع برج فورنیکس کے ایک حصے سے ملا جس کا ماہرین کئی دہائیوں سے مطالعہ کررہے ہیں۔ اسی علاقے کی ہبل خلائی دوربین نے 270 گھنٹے سے زیادہ مشاہدات کیے تھے جن کی مدد سے ہزاروں کہکشاؤں کی تصاویر حاصل کی گئیں۔

جیمز ویب دوربین نے بھی اسی علاقے کا مشاہدہ کیا لیکن اس بار روشنی کی ایک ایسی لکیر سامنے آئی جو پہلے ریکارڈ کیے گئے مشاہدات میں دکھائی نہیں دی تھی۔

پراسرار اشارے کی خاص بات کیا ہے؟

جامع تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے دوربین کے قریب زیریں سرخ طیف پیما کی مدد سے روشنی کو مختلف طول موجوں میں تقسیم کیا۔ اس طریقے سے روشنی میں موجود ایسی نشانیاں تلاش کی جاتی ہیں جو اجرامِ فلکی کی ساخت اور خصوصیات جاننے میں مدد دیتی ہیں۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے دوربین کے بیشتر باریک دریچے کھول کر مشاہدات کیے تاکہ ایسے اجرام کا سراغ لگایا جاسکے جو عام طریقوں سے نظر نہیں آتے۔

اگست اور نومبر 2023 میں کیے گئے دونوں مشاہدات میں ایک ہی مقام سے تقریباً 1.6 مائیکرومیٹر طول موج پر روشنی کی نمایاں لکیر سامنے آئی۔

یہ اشارہ مختلف زاویوں سے کیے گئے مشاہدات میں بھی ریکارڈ ہوا جس سے محققین کے مطابق اسے محض فنی خرابی قرار دینا آسان نہیں تاہم اس کی موجودگی پہلے کے مشاہدات میں ثابت نہیں ہوسکی۔

روشنی کہاں سے آئی؟

سائنس دانوں نے اس اشارے کی ممکنہ وجوہات میں ابتدائی کائنات کی کوئی کہکشاں، نسبتاً نئی کہکشاں، پھٹنے والا ستارہ یا ایسا بلیک ہول شامل کیا ہے جو کسی ستارے کو اپنی کشش سے توڑ رہا ہو تاہم ان میں سے کوئی وضاحت تمام دستیاب شواہد سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتی۔

ماہرین کے مطابق صرف روشنی کی ایک لکیر سے اس کے منبع اور فاصلے کا تعین مشکل ہے کیونکہ کائنات کے پھیلاؤ کے باعث روشنی کی طول موج تبدیل ہوسکتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس پراسرار اشارے کی حقیقت جاننے کے لیے مزید حساس مشاہدات ضروری ہیں۔ ان سے روشنی کی اضافی نشانیاں مل سکتی ہیں جن کی مدد سے اس کے منبع کی شناخت ممکن ہوسکے گی۔

متعلقہ خبریں