سوشل میڈیا پر ان دنوں 80 کی دہائی کے انداز میں تصاویر بنانے کا اے آئی ٹرینڈ تیزی سے مقبول ہورہا ہے جس میں عام صارفین کے ساتھ پاکستانی شوبز شخصیات بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔
اس ٹرینڈ میں صارفین چیٹ جی پی ٹی سمیت مختلف اے آئی ٹولز کی مدد سے اپنی تصاویر کو 1980 کی دہائی کے فیشن اور انداز میں تبدیل کررہے ہیں۔ ٹرینڈ کی مقبولیت اس قدر بڑھی کہ سوشل میڈیا پر مزاحیہ انداز میں یہ سوال بھی گردش کرنے لگا کہ ’کوئی رہ تو نہیں گیا؟‘
شوبز انڈسٹری میں اس ٹرینڈ کا آغاز ماہرہ خان کے ایک میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے کیا گیا جس نے ماورا حسین، ماہرہ خان، عائزہ خان، انمول بلوچ، صنم سعید، عینا آصف اور زارا نور عباس کی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر شیئر کیں۔
View this post on Instagram
پوسٹ کے مطابق پاکستانی اداکاراؤں کو ایک مختلف دور کی ہیروئنز کے انداز میں پیش کیا گیا تاہم بعض صارفین نے اے آئی کے استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا متعلقہ اداکاراؤں نے اپنی تصاویر کو اس مقصد کے لیے استعمال کی اجازت دی تھی۔
View this post on Instagram
دوسری جانب اداکارہ صبور علی اور اداکار یاسر حسین سمیت متعدد شوبز شخصیات اور انٹرٹینمنٹ پیجز نے بھی اے آئی سے تیار کردہ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔
یاسر حسین کی تصاویر میں ان کی اہلیہ اقرا عزیز کے ساتھ ایک تصویر بھی شامل تھی جبکہ صبور علی نے علی انصاری کے ہمراہ اے آئی سے تیار کردہ تصویر اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کی۔
View this post on Instagram
شاہروز سبزواری، مریم نفیس، انوشے اشرف، زلے سرحدی، نور حسن، نمرہ خان اور ارمینہ خان سمیت دیگر شوبز شخصیات بھی اس ٹرینڈ کا حصہ بنیں۔
View this post on Instagram
اگرچہ 80 کی دہائی کے انداز میں تصاویر بنانے والے اس اے آئی ٹرینڈ نے سوشل میڈیا صارفین کو تفریح کا نیا موقع فراہم کیا تاہم اس کے ساتھ تصاویر کے غلط استعمال، رضامندی، پرائیویسی، ڈیپ فیک اور ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔
View this post on Instagram
صارفین نے اے آئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال اور تصاویر کے ذریعے شناخت چوری کے خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
















