امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مردوں کے جسم کے خلیوں میں وائی کروموسوم کی کمی کینسر کے آغاز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتی ہے۔
ایریزونا جامعہ کے کینسر مرکز کے سائنس دان ڈاکٹر ڈین تھیوڈورسکو کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق میں مردوں کے مختلف جسمانی اعضا کے خلیوں کا جائزہ لیا گیا۔
محققین کے مطابق عام طور پر مرد کے جسم کے ہر خلیے میں ایک ایکس اور ایک وائی کروموسوم موجود ہوتا ہے تاہم عمر بڑھنے کے ساتھ بعض خلیوں میں وائی کروموسوم ختم ہوجاتا ہے۔
تحقیق میں پہلی مرتبہ 11 اہم انسانی اعضا کے معمول کے، کینسر سے پہلے کے اور کینسر زدہ خلیوں میں وائی کروموسوم کی کمی کا منظم جائزہ لیا گیا۔
اس مقصد کے لیے 405 مردوں سے حاصل کیے گئے ایک ہزار خلیوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جس کے دوران 43 لاکھ سے زائد خلیوں کے مرکزوں کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے مثانے کے کینسر کے مریضوں کے خلیوں کے تفصیلی نقشے بھی تیار کیے۔ ان نقشوں سے معلوم ہوا کہ معمول کے خلیوں سے ابتدائی غیر معمولی خلیوں اور پھر کینسر زدہ خلیوں کی جانب بڑھنے کے ساتھ وائی کروموسوم کی کمی میں اضافہ ہوتا گیا۔
تحقیق کے مطابق بڑی آنت، مقعد، غذائی نالی، لبلبے اور پھیپھڑوں کے کینسر میں معمول جیسے دکھائی دینے والے قریبی خلیوں میں وائی کروموسوم کی کمی زیادہ نمایاں تھی۔
ڈاکٹر تھیوڈورسکو کے مطابق کینسر کے قریب جانے کے ساتھ وائی کروموسوم کی کمی میں اضافہ ایک ڈھلوان کی طرح نظر آتا ہے۔ ان کے بقول مستقبل میں یہ تبدیلی ایسے کینسر کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے جو ابتدائی معائنے میں نظر انداز ہوجائے۔
محققین کا کہنا ہے کہ وائی کروموسوم کی کمی کو پہلے بھی مختلف بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔ سابقہ تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا تھا کہ کینسر زدہ خلیوں میں وائی کروموسوم کی کمی انہیں جسم کے مدافعتی نظام سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم نئی تحقیق کے مطابق کینسر بننے سے پہلے ہی قریبی معمول کے خلیوں میں وائی کروموسوم کی کمی کا ظاہر ہونا اس عمل کی ابتدائی علامت ہوسکتا ہے۔




















