Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دوران حمل موبائل فون کا استعمال محفوظ ہے، ماہرین کیا کہتے ہیں

نئی تحقیق نے موبائل فون اور حمل کے درمیان ممکنہ تعلق کے کچھ اشارے ضرور دیے ہیں

 دورجدید میں موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ اب یہ ایک ایسی ڈیوائس بن گئی ہے جو روزمرہ زندگی کے کام آسان بنا دیتی ہے یہی وجہ ہے دنیا کی ایک بڑی آبادی اپنے دن کا زیادہ وقت اسی کے ساتھ گزارتی ہے تاہم اس کا استعمال اتنا بھی محفوظ نہیں جتنا تصور کیا جاتا ہے خاص کر حاملہ خواتین کے لیے۔

کئی دہائیوں سے موبائل فون کے صحت پر اثرات کے حوالے سے ہونے والی تحقیق میں عام طور پر زیادہ تشویش کی کوئی خاص وجہ سامنے نہیں آئی۔

محققین نے موبائل فون کے استعمال اور حمل سے متعلق 20 سابقہ تحقیقات کا جائزہ لیا۔ کچھ تحقیقات میں موبائل فون کے زیادہ استعمال اور بچے کی نشوونما میں بعض مسائل کے درمیان معمولی تعلق دیکھا گیا جبکہ دوسری بڑی تحقیقات میں ایسا کوئی تعلق نہیں ملا۔

کچھ مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ موبائل فون کے قریب رکھنے سے جنین کی دل کی دھڑکن یا دل کے کام میں معمولی تبدیلی آسکتی ہے۔ تاہم کئی دوسری تحقیقات میں ایسا کوئی اثر سامنے نہیں آیا۔

اسی طرح ایک اور تحقیق میں تقریباً 600 خواتین کا جائزہ لیا گیا اور موبائل فون کے زیادہ استعمال اور حمل ضائع ہونے کے درمیان تعلق دیکھا گیا۔ لیکن محققین یہ نہیں بتا سکے کہ اس کی وجہ واقعی موبائل فون کی تابکاری تھی یا موبائل فون کے زیادہ استعمال سے جڑے دوسرے عوامل۔

ماہرین کے مطابق موبائل فون سے نکلنے والی تابکاری کی شدت کم ہوتی ہے اور عام حالات میں اسے جسم کے ڈی این اے کو نقصان پہنچانے کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ تاہم چونکہ لوگ موبائل فون پہلے سے کہیں زیادہ استعمال کر رہے ہیں اس لیے اس کے طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ماہرین نے موبائل فون کم استعمال کرنے کا آسان طریقہ بتادیا

محققین کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین کو فی الحال موبائل فون مکمل طور پر چھوڑنے کی ضرورت نہیں تاہم احتیاط کے طور پر اسپیکر یا ہیڈسیٹ استعمال کر سکتی ہیں، اس طرح جب فون استعمال میں نہ ہو تو ایئرپلین موڈ بھی آن کیا جا سکتا ہے اور فون کو طویل وقت تک جسم کے بالکل قریب رکھنے سے گریز کیا جا سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ نئی تحقیق نے موبائل فون اور حمل کے درمیان ممکنہ تعلق کے کچھ اشارے ضرور دیے ہیں لیکن ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ موبائل فون حمل یا بچے کے لیے نقصان دہ ہے تاہم اس بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔