بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے کی عادت غذائی نالی کے ایک مخصوص کینسر کا خطرہ تین گنا سے بھی زیادہ بڑھا سکتی ہے۔
برطانیہ میں تقریباً 9 لاکھ 77 ہزار افراد پر کی گئی ایک بڑی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گرم مشروبات پینے کے درجۂ حرارت اور کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق پایا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق جو افراد چائے یا کافی بہت زیادہ گرم پینا پسند کرتے ہیں، ان میں غذائی نالی کے مخصوص کینسر کا نسبتی خطرہ نیم گرم مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں 3.17 گنا زیادہ تھا۔ اس کے برعکس گرم مشروبات پینے والوں میں یہ خطرہ 69 فیصد زیادہ پایا گیا۔
روزانہ چھ یا اس سے زیادہ گرم مشروبات پینے کے اثرات
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ روزانہ چھ یا اس سے زیادہ گرم مشروبات پینے والے افراد میں غذائی نالی کے مخصوص کینسر کا خطرہ کم گرم مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں 71 فیصد زیادہ تھا۔
محققین نے برطانیہ کے دو بڑے مطالعات میں شامل افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ چائے یا کافی کتنی مقدار میں پیتے ہیں اور انہیں کس درجۂ حرارت پر پینا پسند ہے۔
نتائج کے مطابق چائے اور کافی دونوں کے حوالے سے خطرے کا تعلق مشروب کے درجۂ حرارت سے ملتا جلتا تھا۔ چائے میں دودھ شامل کرنے سے بھی اس تعلق میں کوئی نمایاں تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
مشروبات کا درجۂ حرارت کیوں اہم ہے؟
محققین کے مطابق بہت زیادہ گرم مشروبات غذائی نالی کی اندرونی سطح کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مسلسل حرارتی نقصان سے بافتوں میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہونے کا امکان ہے جو کینسر کے عمل کو فروغ دے سکتی ہیں۔
تاہم تحقیق میں مشروبات کا اصل درجۂ حرارت ناپنے کے بجائے شرکا کی بتائی گئی ترجیحات کو بنیاد بنایا گیا۔ اس لیے نتائج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گرم چائے یا کافی براہِ راست کینسر کا سبب بنتی ہے۔
تحقیق کے مصنفین کے مطابق اگر بہت زیادہ گرم مشروبات پینے والے افراد انہیں نسبتاً کم گرم درجۂ حرارت پر پینا شروع کردیں تو غذائی نالی کے مخصوص کینسر کے بعض واقعات سے بچاؤ ممکن ہوسکتا ہے۔
محققین نے مشورہ دیا ہے کہ چائے یا کافی کو انتہائی گرم حالت میں پینے کے بجائے کچھ ٹھنڈا ہونے کے بعد استعمال کیا جائے۔




















