صحت مند رہنے کے لیے جہاں متوازن غذا ضروری ہے وہی نیند بھی بے حد اہمیت رکھتی ہے نیند کی حالت میں جسم دن بھر ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتا ہے اور ساتھ ہی دماغ کو پرسکون رکھ کر اگلے دن کے لیے تیار کرتا ہے۔
میلاٹونین دماغ میں موجود پائنل گلینڈ سے خارج ہونے والا ہارمون ہے جو جسم کی اندرونی گھڑی اور نیند و بیداری کے معمولات کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس ہارمون کی پیداوار عموماً اندھیرے میں بڑھتی ہے جبکہ روشنی اس کی پیداوار کو کم کر سکتی ہے۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ نیند کو نظر انداز کرنا یا نیند نہ آنے کی شکایت مختلف بیماریوں کے خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جسم میں میلاٹونین ہارمون کی کم پیداوار نیند کے مسائل کی ممکنہ وجوہات میں سے ایک ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض افراد اپنی مرضی سے نیند پوری نہیں کرتے جبکہ کچھ لوگوں کو نیند آنے یا مسلسل سوتے رہنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ نیند کی کمی طویل عرصے تک برقرار رہے تو یہ صحت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محض ایک عضو نہیں، دماغ کے بارے میں حیران کن انکشاف
رپورٹس کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں میلاٹونین کی پیداوار میں بھی کمی آسکتی ہے۔ ڈاکٹر وانگ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بچپن میں اس ہارمون کی پیداوار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے جو عمر کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے تاہم نیند کے مسائل کی وجہ صرف میلاٹونین کی کمی نہیں ہوتی بلکہ دیگر جسمانی، نفسیاتی اور طرزِ زندگی سے متعلق عوامل بھی اس میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پستے، انڈے اور مچھلی سمیت بعض غذاؤں میں میلاٹونین یا اس کی تیاری میں مدد دینے والے اجزا پائے جاتے ہیں تاہم صرف ان غذاؤں کے استعمال سے نیند کے مسائل کا مکمل حل یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔
نیند کے مسائل سے دوچار افراد کو باقاعدہ وقت پر سونے اور جاگنے، رات کے وقت تیز روشنی اور اسکرین کے استعمال میں کمی کرنے اور مناسب نیند کا معمول اپنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ میلاٹونین سپلیمنٹس یا نیند کی ادویات استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بھی ضروری ہے۔




















