سعودی عرب میں ریت کے ٹیلوں پر منعقد ہونے والے دلچسپ و حیرت انگیز مقابلہ حسن نے شرکاء کے دل جیت لیے۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ریاض میں صحرا کے بحری جہاز اونٹ کا سالانہ مقابلہ حسن منعقد کیا گیا جسے دیکھنے کے لیے مشرق وسطیٰ کی مختلف ریاستوں کے لوگ خصوصی طور پر آئے تھے۔
واضح رہے کہ صحرائی بحری جہاز اونٹ طویل عرصے سے مشرق وسطی کی تاریخ اور ثقافت سے وابستہ ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی عرب ریاستوں میں بدو باشندے اب بھی عرب کے صحراؤں میں رہتے ہیں، جہاں اونٹ ان کی خواراک، آمدورفت اور لباس کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔
![]()
تاریخی طور پر بھی اونٹوں کو پالنا ابتدائی عرب معاشروں کی عکاسی کرتا ہے اور ان “صحرا کے بحری جہازوں” کی رفتار اور لچک کی بدولت عربی فوجیں تیزی سے علاقے کو فتح کرنے اور بڑی سلطنتیں قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب، کھیلوں کی خریداری کا جوش
اس لیے یہ شاید کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ان خصوصیات کو منانے کے لیے پورے خطے میں تہواروں کا انعقاد کیا جاتا ہے.
خطے کے کیلنڈر میں ایک نمایاں تقریب مزائین العبل کے نام سے ہوتی ہے جسے کنگ عبدالعزیز اونٹ فیسٹیول بھی کہا جاتا ہے۔

یہ فیسٹیول ہر سال ہزاروں زائرین کو عرب کے سب سے منفرد مقابلوں میں سے ایک دیکھنے کے لیے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اونٹوں کا یہ مقابلہ حسن مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑے واقعات میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے.
اس فیسٹیول میں 75 اونٹوں کے مابین خوب صورتی کا مقابلہ منعقد ہوتا ہے، یہ فیسٹیول 26 ملین ڈالرز کی انعامی رقم پر مشتمل ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب میں نایاب اونٹوں کی افزائش پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور سعودی عرب میں اونٹوں کی تجارت کروڑوں ڈالرز کی صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔

اگرچہ ریاض کے شمال میں ایک شو گراؤنڈ میں منعقد ہونے والا یہ میلہ کئی سالوں سے منایا جا رہا ہے، لیکن 2017 میں سعودی وزرا کی کونسل کی جانب سے اس تقریب کو باضابطہ طور پر منظم کرنے کا فیصلہ جاری کرنے کے بعد اسے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔
سعودی کیمل کلب کے زیر اہتمام، کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن فار ریسرچ اینڈ آرکائیوز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں فیسٹیول کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔
اونٹ عام طور پر پہلے جانور نہیں ہوتے جو خوبصورتی کے بارے میں سوچتے ہی ذہن میں آجاتے ہیں۔ لیکن یہ غیر منصفانہ ہو گا کہ مویشیوں کے اس انتہائی عاجز کی جمالیاتی صفات کو بھی نہ پہچانا جائے تو اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اونٹ مقابلہ حسن میں کیسے حصہ لیتا ہے؟

اونٹ پالنے والے مقابلے میں ایک اونٹ یا 50 تک کے ریوڑ میں داخل ہونے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد امیدواروں کو ان کے رنگ کی بنیاد پر زمرہ جات میں تقسیم کیا جاتا ہے
سعودی عرب میں گہری جلد والے ’میجاہیم‘ اور ہلکی جلد والے ’مقطع‘ اونٹوں کو اعلیٰ نسل کا درجہ حاصل ہے.
ہلکی جلد والے اونٹوں کو پھر دودھ (روشن سفید)، شیل (پیلا)، سوفور (سیاہ کوہان کے ساتھ پیلا)، شگیہ (سفید لیکن کم روشن) اور ہومور (سرخ) میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

مقابلہ حس میں داخل ہونے والے اونٹوں کی عمر کے لحاظ سے بھی درجہ بندی کی جاتی ہے، جس میں دیگ (پانچ سال سے کم عمر کے اونٹ) اور جیل (پانچ سال سے زائد عمر) کے مقابلے ہوتے ہیں۔
اس فیسٹیول میں ایک الگ کیٹیگری صاحیل، یا ساحلی، اونٹوں کے لیے مخصوص ہے، جو ان کے سرخ رنگ، بڑے سر، لمبی گردن، بڑے جسم، اور زیادہ سے زیادہ جسم کی لمبائی سے ممتاز ہیں۔


















