Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عالمی فٹ بال کا نیا مرکز سعودی عرب ہو گا، امریکی اخبار کا دعویٰ

ایک امریکی اخبار نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل قریب میں عالمی فٹ بال کا مرکز سعودی عرب ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی اخبارکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی پبلک انوسٹمنٹ فنڈ کو 4 سعودی کلبوں کے حصول کا اعلان کیے زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ کریم بینزیما روشن لیگ کے چمپئن ’’الاتحاد‘‘ کے ساتھ کھیلنے کے لیے جدہ آگئے تھے۔

Ronaldo signed, Messi on radar: Is Saudi Arabia set to become the latest  international football hub? | Football News, The Indian Express

رپورٹ کے مطابق کریم بینزیما کی الاتحاد میں شمولیت وہ لمحہ تھا جب دنیا کو معلوم ہوگیا کہ سعودی لیگ فٹ بال کی دنیا میں سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک بن گئی ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق کریم بینزیما کے بعد نگولو کانٹے نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد رابن نیوس، مارسیلو بروزووک، کالیڈو کولیبیلی، ایڈورڈ مینڈی اور روبرٹو فرمینو بھی اسی نقش قدم پر چلے۔

امریکی اخبار نے یورپی کلبوں کے کاروباری ایجنٹوں اور عہدیداروں پر نہ صرف الزام تراشی کی بلکہ ان  ایجنٹس کو ایسے نئے حریف کے متعلق فکر مند بھی کردیا جو مشرق وسطیٰ میں نمودار ہو رہا تھا اورعالمی شہرت یافتہ بین الاقوامی کھلاڑیوں کو سعودی عرب جانے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

How stars are shaping oil-rich Saudi into football hub | Trust Radio

ان دنوں سعودی فٹ بال ایسوسی ایشن کے سابق ٹیکنیکل ڈائریکٹر جان وان ونکل کو روزانہ درجنوں کالز موصول ہوتی ہیں۔ کال کرنے والے ان سے کلب کے کسی عہدیدار کا فون نمبر مانگتے ہیں یا سعودی کلبوں میں فیصلہ سازوں تک پہنچنے میں مدد کے لیے کہتے ہیں۔

وان ونکل جنہوں نے اپنے کیریئر کا زیادہ تر حصہ سعودیہ میں گزارا ہے نے امریکی اخبار کو بتایا کہ سعودی بہت ہوشیار ہیں وہ پیسے کا استعمال صرف خرچ کرنے کے لیے نہیں کرتے بلکہ یہاں بھی ان کی ایک کاروباری حکمت عملی ہوتی ہے۔

Commentary: Singapore and Asia can't be passive observers as Saudi Arabia  reshapes football - CNA

وان ونکل واحد فرد نہیں ہیں جنہوں نے اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں کا سامنا کیا ہے بلکہ سعودی کلبوں میں کام کرنے والوں میں سے بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں ” لنکڈ اِن‘‘ سائٹ پر اپنے ذاتی پیجز کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے تھے تاکہ معلومات حاصل کی جا سکیں اور سعودی مارکیٹ تک پہنچنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔

امریکی اخبار نے مزید بتایا کہ سعودی افراد چینی لیگ کی غلطیوں سے بچنے کے خواہاں تھے۔

یاد رہے کہ چینی لیگ تقریباً 7 سال قبل اپنے خاتمے سے پہلے مختصر عرصہ کے لیے شاندار طور پر ظاہر ہوئی تھی جبکہ سعودی ایک پائیدار منصوبہ بنانا چاہتے ہیں۔

اسی وجہ سے پروفیشنل لیگ نے اس موسم گرما میں ٹارگٹڈ کنٹریکٹنگ آپریشنز کے لیے بنیادی اصولوں کا ایک سیٹ جاری کیا ہے۔

متعلقہ خبریں