Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کرکٹ کے لیے والد سے بہت مار کھائی، حارث رؤف کی دستاویزی فلم جاری

لاہور قلندرز کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے پاکستان سپر لیگ اور پھر قومی کرکٹ ٹیم میں انٹری دینے والے فاسٹ بولر حارث رؤف نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی اسکول فیس پوری کرنے کے لیے نمکو فروخت کیا کرتے تھے۔ 

کرکٹ ویب سائٹ ای ایس پی این کرک انفو نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے  فاسٹ بولر حارث رؤف پر ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے جس میں لاہور قلندرز کے اسٹار بولر کا راولپنڈی میں پرانا گھر بھی دکھایا گیا اور وہ علاقہ بھی جہاں حارث کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔

انٹریو کے دوران قومی ٹیم کے فاسٹ بولر حارث رؤف نے انکشاف کیا کہ انہیں گھر سے کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور کرکٹ کے لیے والد صاحب سے مار بھی کھائی ہے لیکن کرکٹ کھیلنا نہیں چھوڑی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے بچپن سے ہی کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا، مجھے یاد ہے بچپن میں گلی محلے میں کھیلتے ہوئے مجھے بولنگ کروانے نہیں دیتے تھے اور یہ کہہ کر اعتراض کرتے کہ یہ بٹا بولنگ (غیر قانونی) کرواتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں کھیلنا ہی نہیں آتا تھا۔

حارث رؤف نے بتایا کہ  میں گھر سے یہ کہہ کر جاتا تھا کہ میں پڑھنے جارہا ہوں اورپھر دوست کے گھر جایا کرتا تھا، جہاں ٹراؤزر اور جوتے پہن کر ٹیپ بال کرکٹ کھیلنے جاتے تھے۔

قومی ٹیم کے فاسٹ بولر نے اپنی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد صاحب ویلڈر تھے جو بمشکل اپنے کام سے بچوں کا پیٹ پالتے تھے جب کہ ہمارے ساتھ  چاچا بھی رہتے تھے اور پھر ایک ایک کرکے سب کی شادی ہوتی گئی تو والد صاحب ان کو کمرہ دے دیتے، آخر میں ایسے حالات آگئے تھے کہ ہمیں کچن میں بھی سونا پڑتا تھا۔

ڈاکیومنٹری کے دوران حارث رؤف کے والد نے کہا کہ مجھے پتہ تھا کہ ہمارے جیسے مڈل کلاس کے بچے آگے نہیں جاسکتے اس لیے میں حارث کو کرکٹ کھیلنے سے روکتا تھا۔

حارث رؤف نے انکشاف کیا کہ اپنی اسکول کی فیس دینے کے لیے ہر اتوار بازار میں نمکو فروخت کرتا تھا، اس سے اسکول کی فیس نکل آتی، بعدازاں یونیورسٹی میں گیا تو ہر 6 ماہ بعد 70 سے80 ہزار چاہیے ہوتے تھے جس کے لیے میں ٹیپ بال کرکٹ کھیلتا تھا اور اس سے ماہانہ 2 سے ڈھائی لاکھ روپے ہوجایا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ میرا مستقبل نہیں ہے کیوں کہ میں بہت سے ٹیب بال کرکٹرز کو جانتا ہوں جو اب بہت مشکل زندگی گزاررہے ہیں، اس لیے میں اس کوشش میں بھی رہتا تھا کہ کوئی مستقل نوکری بھی تلاش کرلوں تاکہ کرکٹ کے ساتھ وہ بھی چلتی رہے۔

حارث رؤف نے کہا اب میرے پاس ایک گھر اور گاڑی ہے، جب میں نے گاڑی خریدی تو میرے والد رونے لگے اور کہا کہ ان کی اس گاڑی میں بیٹھنے کی بھی حیثیت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ میں فاسٹ بولر والی جارحیت اور جذبہ نہیں ہے تو فاسٹ بولر بننے کا کوئی فائدہ نہیں اور میرے اندر یہ سب ہر وقت موجود رہتا ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں