سندھ پریمیئر لیگ کے دوسرے ہی دن امپائرنگ سمیت دیگر معاملات پر سوال اٹھنے لگے۔
چند روز قبل نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں سندھ پریمیئر لیگ کے پہلے ایڈیشن کا آغاز ہوا۔ افتتاحی تقریب میں سندھ پریمیئرلیگ کے صدر ہارون ملک، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پیپلزپارٹی رہنما آصفہ بھٹو، نگران صوبائی وزرا ڈاکٹر جنید علی شاہ اور احمد شاہ نے بھی خطاب کیا، تقریب کے آخر میں آتش بازی کا مظاہرہ بھی ہوا۔
گزشتہ روز نیشنل اسٹیڈیم میں سندھ پریمیئر لیگ کے مقابلے میں میرپورخاص ٹائیگرز نے کراچی غازیز کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔
کراچی غازیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر 150رنز بنائے، زاہد محمود 41، حیدر علی 21 اور علی اسحاق 20رنز بنا کر نمایاں رہے، ثمین گل، عارف یعقوب اور فضل الرحمان نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
What is happening in Sindh Premier League? 🤯
The bowler didn't even appeal and it was clearly sliding down leg, but the umpire gave the batter out 🤦🏽♂️🤦🏽♂️ pic.twitter.com/IXmiY51DZo
— Farid Khan (@_FaridKhan) January 26, 2024
151 رنز کا ہدف میر پورخاص ٹائیگرز نے 19 ویں اوور میں چار وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا، عمر امین 78 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے، سہیل خان نے 43 رنز بنائے، عامر خان نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، عمر امین مین آف دی میچ قرار پائے، واضح رہے کہ کراچی غازیز کو یہ مسلسل دوسری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
میچ میں حیران کن طور پر امپائرنگ کی غلطیاں بھی سامنے آئیں۔ میچ کے دوران کراچی غازیز کے بیٹر محمد اخلاق کو غلط ایل بی ڈبلیو دیا گیا، لیگ سائیڈ پر جانے والی گیند پر میرپور خاص کے بولر ثمین گل کی جانب سے اپیل نہ کیے جانے کے باوجود امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دیدیا۔
واضح رہے کہ لیگ کے افتتاحی روز ایک ٹیم کی کٹ نہ پہنچنے کی وجہ سے میچ تاخیر کا شکار ہوگیا تھا، اسی لیگ کی انتظامیہ کے تحت منعقدہ کے پی ایل میں بعض کھلاڑی مبینہ طور پر میچ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے۔


















