Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چین نے از خود سیکھنے والا اے آئی ماڈل تیار کر لیا

حیرت انگیز ماڈل ایک مسلسل لوپ میں کام کرتا ہے جو انسانی تحقیق کے طریقہ کار سے ملتا جلتا ہے

چینی محققین نے ایک ایسا اے آئی ماڈل تیار کیا ہے جو خود سیکھتاہے یعنی ہر مرحلے پر خود کا بہتر ورژن تیار کرتا رہتا ہے۔

اے ایس آئی ایولو نامی یہ ماڈل شنگھائی جائیو ٹونگ یونیورسٹی نے تیار کیا ہے یہ حیرت انگیز ماڈل ایک مسلسل لوپ میں کام کرتا ہے جو انسانی تحقیق کے طریقہ کار سے ملتا جلتا ہے۔

یہ مختلف اے آئی ماڈلز کے ورژن بناتا ہے ان کی تربیت کے طریقے بدلتا ہے اور ڈیٹا کو ایڈجسٹ کرتا ہے پھر خود ہی تجربات کر کے دیکھتا ہے کہ کون سا ورژن بہتر ہے اور انہی نتائج کی بنیاد پر اگلے اقدامات طے کرتا ہے۔

محققین کے مطابق اے ایس آئی ایولو روایتی ارتقائی ایجنٹس کو دو اہم اجزاء کے ساتھ بہتر بناتا ہے ایک کوگنیشن بیس جو انسانی تجربات کو ہر مرحلے میں شامل کرتا ہے اور ایک اینالائز جو پیچیدہ نتائج کو مستقبل کے لیے قابلِ استعمال بصیرت میں بدل دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ چیٹنگ اب ہوں گی مزید آسان؛ نیا اے آئی فیچر متعارف

سادہ الفاظ میں یہ نظام خود خیالات پیدا کرتا ہے انہیں آزماتا ہے اور پھر نتائج کی بنیاد پر خود کو بہتر بناتا ہے یہ طریقہ نہ صرف اے آئی ڈیولپمنٹ بلکہ سائنسی اور ریاضیاتی تحقیق کے ٹرائل اینڈ ایررعمل جیسا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس ایجاد نے ابھی تک خاصی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ یہ ایسے شعبوں میں دریافتوں کو تیز کر سکتا ہے جہاں انسانی تحقیق سست رفتار ہوتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے ایک مخصوص فنکشن اٹنشن مکنزم میں 0.97  پوائنٹس کی بہتری حاصل کی جبکہ انسان صرف 0.34  پوائنٹس تک پہنچ سکا ہےیعنی یہ صرف ایک ٹیسٹ میں تقریباً تین گنا زیادہ مؤثر ثابت ہوا ہے۔

مزید یہ کہ جب اسے ادویات کی دریافت میں استعمال کیا گیا تو اس نے موجودہ سسٹمز سے بہتر کارکردگی دکھائی۔

تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے یہ سسٹم مستقبل میں انسانوں کی جگہ لے لے گا۔
اگرچہ اس سسٹم کی توانائی کے استعمال کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی، لیکن اس کی کارکردگی اور خودکار سیکھنے کی صلاحیت ظاہر کرتی ہے کہ یہ روایتی بڑے اے آئی ماڈلز کے مقابلے میں کم توانائی استعمال کر سکتا ہے  خاص طور پر اس وقت جب چین میں نئے ڈیٹا سینٹرز کو گرین ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

مختصراًایک ایسا قدم ہے جو نہ صرف اے آئی بلکہ سائنسی تحقیق کے مستقبل کو بھی تیزی سے بدل سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں