Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارتی یکطرفہ اقدامات جموں وکشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتے، پاکستان

‘بھارت حقائق کو مسخ کرکے اقلیتوں پر مظالم سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے’

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ بھارتی یکطرفہ اقدامات جموں وکشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی کے نئے سیکریٹری جنرل سمیت ترکیہ، سعودی عرب اور ناروے کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے جن میں باہمی دلچسپی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ فریقین کے درمیان علاقائی امور سمیت آرفور فریم ورک پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود حل طلب مسئلہ ہے اور بھارتی دعوے یا ہتھکنڈے اس کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتے۔ بھارتی یکطرفہ اقدامات سے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان چینی صدر شی جن پنگ کے گلوبل گورننس انیشی ایٹو (جی جی آئی) کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اس حوالے سے بامعنی پیش رفت کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو عالمی تعلقات میں انصاف، مساوات اور شمولیت کو فروغ دینے کا مقصد رکھتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کو مرکزیت حاصل کثیرالجہتی نظام اس کا مرکزی موضوع ہے۔

ترجمان کے مطابق 160 ممالک اور عالمی تنظیموں نے جی جی آئی کی حمایت کی ہے جبکہ 60 سے زائد ممالک گلوبل گورننس کے دوست ممالک کے گروپ میں شامل ہوچکے ہیں۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن نے بھی باضابطہ طور پر کام شروع کردیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے نیپال کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان بھیجا ہے۔

دفتر خارجہ نے آدھا سراج نارووال مندر سے متعلق بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ مندر کی عمارت 21 جولائی کو ہونے والی موسلادھار بارشوں سے متاثر ہوئی تھی جس کے بعد متعلقہ حکام نے جائزہ لے کر بحالی کے اقدامات شروع کیے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت حقائق کو مسخ کرکے اقلیتوں پر مظالم سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ بھارت میں اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کا ریکارڈ موجود ہے۔

پاکستان نے بھارتی شہر سہارنپور میں صدیوں پرانی مسجد مسمار کیے جانے کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ سہارنپور مسجد کی مسماری بھارت میں اسلامی ورثے کو نشانہ بنانے کی مہم کا مظہر ہے۔ بھارت میں اسلامی ورثے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد مزید تیز ہوا۔

پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں پر مظالم اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی کا نوٹس لے تاہم پاکستان مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کرتا ہے۔