ناسا کے تاریخی آرٹیمس II مشن نے جہاں دنیا بھر کو حیران کن مناظر سے مسحور کیا، وہیں سوشل میڈیا پر اس کے خلاف عجیب و غریب دعوؤں کا سیلاب بھی امڈ آیا ہے۔
جاپانی میڈیا کے مطابق مختلف پلیٹ فارمز پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ چاند کے گرد چکر لگانے والا یہ مشن حقیقت نہیں بلکہ ایک اسٹوڈیو میں فلمایا گیا ڈرامہ ہے۔
کچھ وائرل تصاویر اور ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا کہ خلا باز گرین اسکرین کے سامنے موجود ہیں اور کیمرے ان کی شوٹنگ کر رہے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مواد یا تو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے یا پھر اسے جان بوجھ کر ایڈٹ کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے۔
ایک اور ویڈیو جسے لاکھوں بار دیکھا گیا، میں مشن کے دوران ایک ماسکوٹ پر عجیب متن ظاہر ہوتا دکھایا گیا جسے سازش کا ثبوت قرار دیا گیا۔
لیکن ڈیجیٹل فرانزک ماہرین کے مطابق یہ دراصل ایک نیوز فیڈ میں تکنیکی خرابی کے باعث ظاہر ہونے والا ٹیکسٹ اوورلے تھا نہ کہ کوئی خفیہ اشارہ۔

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے تو یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ چاند کی سطح پر کوئی پراسرار شے حرکت کرتی دیکھی گئی جسے ناسا چھپا رہا ہے۔ یہ دعوے بھی بغیر کسی ثبوت کے تیزی سے وائرل ہو گئے۔
ادھر آرٹیمس II کے چاروں خلا باز اور ان کے مشن کی براہ راست تصاویر اور ویڈیوز نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی سازشی کہانیاں اب انٹرنیٹ کے محدود حلقوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ مرکزی دھارے میں داخل ہو چکی ہیں جس کی بڑی وجہ عوام کا اداروں اور روایتی میڈیا پر کم ہوتا اعتماد ہے۔

تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنسی کامیابیاں خاص طور پر سازشی نظریات پھیلانے والوں کے لیے آسان ہدف بن جاتی ہیں کیونکہ کچھ لوگ ہر بڑے واقعے کو جھوٹ یا ڈرامہ قرار دینے میں جلدی کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان افواہوں نے ایک پرانے تنازعے کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے یہ دعویٰ کہ 1969 کا اپالو 11 مشن بھی جعلی تھا اور اسے ہالی ووڈ اسٹوڈیو میں فلمایا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر سستی اور آسانی سے دستیاب AI ٹولز نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اب جھوٹ پھیلانے والے اصلی مواد کو بھی جعلی قرار دے کر شکوک و شبہات پیدا کر دیتے ہیں جسے ماہرین لائرز ڈیوڈنڈ کا نام دیتے ہیں۔
یونیورسٹی آف البرٹا کے ماہر ٹموتھی کالفیلڈ کے مطابق چاند پر انسان کی لینڈنگ ایک ایسی سازش ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی کیونکہ کچھ لوگوں کے لیے خفیہ حقیقت جاننے کا احساس بہت پرکشش ہوتا ہے۔
دوسری جانب خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آج سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز خود اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ انسان اب بھی حیرت انگیز کارنامے انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مشن حقیقی ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سچ اور جھوٹ میں فرق کیسے کیا جائے۔




















