Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آئی ایم ایف کا سرکاری اداروں کی ترامیم میں تاخیر پر اظہار تشویش

پاکستان سرکاری اداروں سے متعلق 9 سے 10 قوانین میں ترامیم کے لیے مقرر کی گئی چوتھی ڈیڈ لائن بھی پوری نہیں کر سکا

 پاکستان کی جانب سے سرکاری اداروں ایس او ای سے متعلق قوانین میں ترامیم کی مقررہ ڈیڈ لائن پوری نہ کیے جانے پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان سرکاری اداروں سے متعلق 9 سے 10 قوانین میں ترامیم کے لیے مقرر کی گئی چوتھی ڈیڈ لائن بھی پوری نہیں کر سکا۔ حکومت اس سے قبل بھی ترامیم مکمل کرنے کے لیے متعدد مرتبہ نئی ڈیڈ لائن حاصل کر چکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کے قوانین کو مرکزی ایس او ای ایکٹ سے ہم آہنگ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے جنوری 2026 میں 6 سرکاری اداروں سے متعلق قوانین میں ترامیم کے مسودے پارلیمنٹ کو بھجوائے تھے تاہم مزید 3 اداروں سے متعلق مخصوص قوانین میں ترامیم پر پیش رفت درکار ہے۔

آئی ایم ایف نے واپڈا کے گورننس ڈھانچے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤثر گورننس ماڈل اور اصلاحات پر زور دیا ہے۔ جبکہ واپڈا کے گورننس نظام میں مؤثر اصلاحات کو بھی پروگرام کی شرائط کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایس او ای سے متعلق قوانین میں ترامیم نومبر کے وسط تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل کو شفاف اور قواعد پر مبنی بنانے سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے قومی احتساب آرڈیننس میں ترمیم بھی زیرِ غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے چوتھے جائزے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس نومبر میں ہونے کا امکان ہے۔ چوتھے جائزے کی کامیابی کے بعد پاکستان کو پروگرام کے تحت مزید تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اب تک تقریباً 4.2 ارب ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version