Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لانگ مارچ میں 9 مئی جیسی دہشت گردی کرنے کی کوشش کی تو کچل دیا جائے گا، خواجہ آصف

‘مصدقہ اطلاعات کے مطابق 4 اکتوبر سے لانگ مارچ کو اب صرف خیبرپختونخوا میں ہی گھمایا جائے گا’

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے کسی بھی مرحلے میں کسی بھی بہانے سے 9 مئی جیسی دہشت گردی کرنے کی کوشش بھی کی گئی تو مکمل طور پر کچل دیا جائے گا۔

خواجہ آصف نے اپنے ایکس پر جاری بیان کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پارٹی کی صوبائی قیادت کی مکمل حمایت سے لانگ مارچ کے ذریعے ٹی ٹی پی سے مل کر بدامنی اور تشدد پھیلانے کا انتہائی خطرناک اور مذموم منصوبہ تیار کیا ہے، مذموم منصوبے کو جاننے سے پہلے 15 جولائی 2024 کو پیش آنے والے بنوں واقعے کی طرز کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے گل بہادر گروپ نے پہلے بنوں کینٹ پر خودکش حملہ کیا جس کے نتیجے میں 8 فوجی جوان شہید ہوئے، حملے کے چار روز بعد 19 جولائی 2024 کو بنوں میں انتشاری طرز کا ایک مظاہرہ کیا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ بنوں مظاہرے میں سیاسی و قوم پرست شرپسند عناصر، تحریک انصاف اور پی ٹی ایم سے منسلک گروہ بھی شامل ہو گئے، پر تشدد مظاہرین نے کینٹ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے، ہجوم کا رخ براہِ راست کینٹ کے سپلائی ڈپو کی ٹوٹی ہوئی دیوار  کا فائدہ اٹھا کر لوٹ مار شروع کی، جب سیکیورٹی فورسز مزاحمت کی تو ہجوم طرف فائرنگ کا آغاز کیا گیا۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق 4 اکتوبر سے لانگ مارچ کو اب صرف خیبر پختونخوا میں ہی گھمایا جائے گا، تحریک انصاف صوبائی حکومت نے اپنے فتنہ الخوارج ساتھیوں کی مدد سے پارٹی کے شر پسند جتھوں کو پہلے سے بنوں اسٹائل حملے کرنے کے لیے منصوبہ بندی اور تیاری کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرین اور جلسے جلوس کی آڑ میں فوجی یا پولیس تنصیبات یا چوکیوں کے آس پاس افراتفری پھیلا کر بد امنی اور انتشار پھیلانے کا منصوبہ ہے، واضح پیغام تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور لانگ مارچ کے منتظمین کے لیے وقت سے پہلے کلیئر کٹ وارننگ ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ لانگ مارچ کے کسی بھی مرحلے میں کسی بھی بہانے سے 9 مئی جیسی دہشت گردی کرنے کی کوشش بھی کی گئی تو مکمل طور پر کچل دیا جائے گا، ایسا کرنے والوں کو دہشت گردوں کی طرح ٹھکانے لگایا جائے گا تاکہ ریاست  پر دہشت گردوں کی مدد سے پر تشدد حملوں کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی واضح ہوجانا چاہیے کہ سیاسی جدوجہد اورمسلح بغاوت میں واضح فرق ہے، سیاسی جدوجہد کے لیے پاکستان اور ساری دنیا میں مثالیں اور روایت موجود ہیں، جب سیاسی جدوجہد کے لبادہ میں بھارتی اسپانسرڈ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کرمسلح بغاوت بپا کی جائے گی تو اسے ملکی سالمیت پہ حملہ تصور کیا جائے گا، دفاع کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version