اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی حمایت کے معاملے پر اراکین نے قیادت سے سوالات کیے جس پر قیادت نے جواب دیا کہ تحریک انصاف کو موقع فراہم کیا گیا تھا لیکن وہ نہیں مانے، اس کے علاوہ کیا آپشن تھا؟۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اراکین نے قیادت سے سوال کیا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی حمایت کرکے کیا آئندہ کے لیے راستہ نہیں کھولا گیا؟ اس پر قیادت نے جواب دیا کہ تحریک انصاف کو موقع دیا گیا لیکن اس نے بات نہیں مانی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت نے اراکین سینیٹ اور قومی اسمبلی کو بتایا کہ اگر گورنر راج پر اتفاق نہ کیا جاتا تو شاید پورے ملک میں نظام لپیٹا جاچکا ہوتا۔ موجودہ صورت حال کے حل کے لیے دو راستے تھے جن میں سے ایک استعمال کیا جاچکا ہے جب کہ دوسرے آپشن کی زد میں سب آجاتے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت اور ریاست کو بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جذباتی نعرے اور جذباتی باتیں میرے سامنے نہ کریں، آپ گھبرائیں نہیں، میں بیٹھا ہوں۔
ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی قیادت نے سندھ کی تقسیم کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم پر زیرو ٹالرنس ہے، اگر کسی نے آزمانا ہے تو آزمالے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف اور سہیل آفریدی دہشت گردوں کو دہشت گرد کہتے تو شاید آج حکومت نہ جاتی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی حل کی کوشش کی تھی اور بات آگے بڑھ چکی تھی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اراکین کو بتایا کہ موجودہ صورت حال کے حل کے لیے دو راستے تھے، ایک راستہ اختیار کرلیا گیا جبکہ دوسرے آپشن کی زد میں سب آجاتے۔
اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کو بھی موجودہ صورت حال اور فیصلوں کے پس منظر سے آگاہ کیا گیا۔
