Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

فیلڈ مارشل خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کررہے ہیں، تہران میں کوئی معاہدہ نہیں ہورہا تھا، خواجہ آصف

تہران میں جومیٹنگ ہورہی تھی وہ وزارت دفاع سےمتعلق نہیں تھی، وزیر دفاع

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ فیلڈمارشل سید عاصم منیر اس خطے میں امن قائم کرنےکےلیےاہم کرداراداکررہےہیں تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہورہاتھا نہ پاکستان کےدفاع کی بات ہورہی تھی۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈمارشل عاصم منیر نے پاک بھارت جنگ کےبعدپاکستان کےلیےاہم کرداراداکیا انہوں  نےصلح اوربات چیت کاکرداراداکیاتاکہ خطےمیں امن قائم ہوسکے دو اہم معاہدے ہوئےجن میں ایک مکہ دفاعی معاہدہ،دوسرادفاعی پیداوارکامعاہدہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تہران میں جومیٹنگ ہورہی تھی وہ وزارت دفاع سےمتعلق نہیں تھی تہران میں سعودی وزیردفاع، ترک انٹیلی جنس چیف آئے تھے، وزیردفاع نہیں تھے تہران اجلاس میں میری ضرورت نہیں تھی، سمجھتاہوں مجھ پرجونکتہ چینی کی گئی وہ غلط جگہ پرکی گئی ہے۔

وزیردفاع نے کہا کہ مولانافضل الرحمان نےجو میرے لحاظ سےتحفظات کااظہارکیاہے اس پرمشکورہوں مولانافضل الرحمان کاپاکستان کی سیاست میں اہم مقام ہےجس کااعتراف کیاہے اختلافات کوپس پشت ڈال کرجوکامیابیاں حاصل کی ہیں اس کااعتراف کیاجاناچاہیے۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ماضی میں مولانافضل الرحمان حکومتوں کاحصہ بھی رہےہیں کوئی پرانی بات نہیں 2 سال پہلے ان کے پاس کئی عہدے تھے مولانافضل الرحمان کاپاکستان کی سیاست میں اہم مقام ہےجس کااعتراف کیاجاتاہے حال ہی میں ہم سب نےمل کرجوحکومت بنائی اس میں مولاناکابڑاحصہ تھا درخواست ہےاخلاقیات کامظاہرہ ضرورکیاجائے۔

 انہوں نے کہا کہ جب ہائبرڈ سسٹم سے متعلق بات کرتا ہوں تومجھےماضی کی تقریریادکرائی جاتی ہے ایوان میں کوئی ایسی جماعت نہیں جس کے ساتھ مولانا کا اختلاف اور تعاون نہ رہاہو آپس کے اختلافات میں وسیع القلبی کامظاہرہ کیا جائے تو بہت سےمسائل ختم ہوں گے الیکشن کےنتیجےمیں یہ پارلیمنٹ وجودمیں آئی، ہمارےدوستوں کواعتراض بھی ہے۔

وزیردفاع نے یہ بھی کہا کہ ماضی کو بھلا کر مخالفین پرحملہ کرتے ہیں توکم ازکم اپناماضی میں بھی دیکھ لینا چاہیے مجھ میں اتنی اخلاقی جرات ہےکہ سوچتاہوں کہیں طعنہ تونہیں دیاجائےگا مجھ میں اتنی جرات ہےماضی میں معذرت کی اور آگے چلنےکی بات کی ہے آئینی حکومت کےخاتمےکےبعدایل ایف اوکےتحت ایک حکومت بنی مولاناحصہ دارتھے مولانافضل الرحمان یہاں اپوزیشن لیڈربنےاورساتھ ہی کشمیرکمیٹی کےچیئرمین بھی بنے یہاں بہت سےلوگ ہیں جن کاکشمیرکازکےساتھ جذباتی رشتہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانافضل الرحمان مجھےکہتے ہیں کہ کوئی شرم کرو حیاکرو، مولانافضل الرحمان خودبھی توکوئی شرم کریں کوئی حیاکریں مولانافضل الرحمان کن کن مراعات کوانجوائےکرتےرہےہیں مولانافضل الرحمان10سال کشمیرکمیٹی کےچیئرمین رہے مولانافضل الرحمان بتادیں10سال میں انہوں نےکشمیرکازکی کیاخدمت کی؟ جب مولاناجنرل مشرف کےاتحادی تھےاس وقت بھی میں نےتنقیدکی تھی، وہ اس وقت نورا کشتی کے تحت اپوزیشن لیڈربن گئےتھے اس کےبعدانہوں نے7سال کے پی میں حکومت کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اتنی دیدہ دلیری سےمیں توباتیں نہیں کرسکتاجس طرح مولانانےکیں آپ نےگزشتہ 40 سالوں میں کون کون سی مراعات نہیں لیں مولانافضل الرحمان نےسوائےفری رائیڈلینےکےکچھ نہیں کیا مولاناکس حیثیت سےافغانستان جاناچاہ رہےتھےکیاوزیرخارجہ ہیں؟ مولانافضل الرحمان کس صورت میں اپنی سروسزآفرکررہےتھے ساری سیاسی بحث میں نئےمحاذجنم لےرہےہیں۔

وزیردفاع نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی والےسیاسی طورپرآفن ہوئےہیں اس میں کوئی شک نہیں پی ٹی آئی مقبول پارٹی ہے پی ٹی آئی والوں نےبھی مولانافضل الرحمان کی چھپرچھایاقبول کرلی پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہےمولانافضل الرحمان کی سیاست مذہب پربیس کرتی ہے، مذہب کوکمائی کاذریعہ پی ٹی آئی سمیت کسی نےنہیں بنایا،صرف جےیوآئی نےبنایا، میرامنہ نہ کھلوائیں کہ انہوں نےپی ڈی ایم کی حکومت میں کیاکیاوارداتیں کی ہیں۔

متعلقہ خبریں