آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے 15 رکنی پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سیلکٹر اسد شفیق نے محمد رضوان کی قیادت میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو ترجیح دیتے ہوئے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے 15 رکنی پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا ہے جب کہ ٹیم میں فخرزمان، خوشدل شاہ، سعود شکیل اور فہیم اشرف کی واپسی ہوئی ہے۔
پی سی بی کے پاس اسکواڈ میں تبدیلی کے لیے 11 فروری تک کا وقت ہے جس کے بعد تبدیلی کی اجازت صرف طبی بنیادوں پر آئی سی سی ایونٹ ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری سے ہوگی۔
یہی ٹیم چیمپئنز ٹرافی سے قبل کراچی اور لاہور میں ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں بھی حصہ لے گی جس میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔
عبداللہ شفیق، محمد عرفان خان، صائم ایوب اور سفیان مقیم کی جگہ فہیم اشرف، فخرزمان، خوشدل شاہ اور سعود شکیل کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان کا 15 رکنی اسکواڈ:

بیٹرز میں بابر اعظم، فخر زمان، کامران غلام، سعود شکیل اور طیب طاہر شامل ہیں جب کہ آل راؤنڈرز میں فہیم اشرف، خوشدل شاہ، سلمان علی آغا (نائب کپتان ) موجود ہیں۔
وکٹ کیپر و بیٹرز میں محمد رضوان (کپتان) اور عثمان خان شامل ہیں، اسپنر میں ابرار احمد جب کہ فاسٹ بولرز میں حارث رؤف، محمد حسنین، نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی کو شامل کیا گیا ہے۔

فخر زمان جنہوں نے 2017 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف سنچری اسکور کی تھی، انہیں کم بیک کیا ہے وہ جون 2024 سے بیماری اور انجری کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ سے دور تھے۔
انہوں نے دسمبر میں چیمپئنز ٹی ٹوئنٹی کپ 2024 کے دوران عمدہ پرفارمنس دی اور 132 سے زیادہ کے متاثرکن اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 303 رنز کے ساتھ تیسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی تھے۔
فخر زمان 82 ون ڈے میچز میں 46.50 کی اوسط اور 93.40 کے اسٹرائیک ریٹ سے 11 سنچریوں اور 16 نصف سنچریوں کی مدد سے 3,492 رنز بناچکے ہیں۔

پاکستان کے ٹیسٹ نائب کپتان سعود شکیل کو ہوم ٹیسٹ میچز میں مسلسل اور شاندار پرفارمنس کا صلہ ٹیم میں شمولیت کی صورت میں ملا ہے۔ بائیں ہاتھ کے بیٹر نے آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 میں کولکتہ میں انگلینڈ کے خلاف اپنا 15 واں اور آخری ون ڈے میچ کھیلا تھا۔
اس سیزن میں بنگلادیش، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم ٹیسٹ میچوں کی 13 اننگز میں سعود شکیل نے 577 رنز بنائے ہیں۔

آل راؤنڈر فہیم اشرف اور خوشدل شاہ کی 50 اوورز کے اسکواڈ میں واپسی سے کپتان محمد رضوان کو اضافی آپشنز فراہم کیے گئے ہیں۔
فہیم اشرف نے اپنا 34 واں اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل ستمبر 2023 میں کھیلا تھا اس کے بعد سے وہ ڈومیسٹک کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں چند مستقل مزاج پرفارمرز میں سے ایک رہے ہیں جب کہ خوشدل شاہ نے آخری بار اگست 2022 میں ون ڈے میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔
فہیم اشرف نے چیمپئنز ون ڈے کپ میں 176 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ چیمپئنز ٹی ٹوئنٹی کپ میں 132 رنز بنانے کے علاوہ 9 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
پاکستانی اسکواڈ میں 2017 چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل جیتنے والی ٹیم کے تین کھلاڑی بابر اعظم، فہیم اشرف اور فخر زمان شامل ہیں۔
بابر اور فخر کے علاوہ حارث رؤف، شاہین شاہ آفریدی اور سعود شکیل نے آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈ کپ 2023 میں بھی حصہ لیا تھا۔
آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کے بعد پاکستان نے تین ون ڈے سیریز کھیلی ہیں جن میں 50 اوورز کی عالمی چیمپئن آسٹریلیا کو 2-1، زمبابوے کو 2-1 اور جنوبی افریقہ کو 3-0 سے شکست دی ہے۔

قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن اسد شفیق کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز نے چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے فارمیٹ کے لیے موزوں کرکٹرز کے انتخاب کا طریقہ اپنانا جاری رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ ایسے کھلاڑیوں کے انتخاب پر مرکوز ہے جنہوں نے اسی طرح کے حالات میں ڈومیسٹک مقابلوں میں مستقل طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو۔
انہوں نے بتایا کہ اسپنر ابرار احمد اور مڈل آرڈر بیٹرز کامران غلام اور طیب طاہر جیسے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی شمولیت ڈومیسٹک سطح پر کامیابی کو بین الاقوامی سطح پر منتقل کرنے کی ان کی صلاحیت پر ہمارے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
اسد شفیق نے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے مشکل ماحول میں مہارت کا مظاہرہ کیا ہے اور انہیں ہوم کنڈیشنز کی گہری سمجھ ہے جب کہ ابرار احمد اسپن اٹیک کی قیادت کریں گے اور ان کے ساتھ خوشدل شاہ اور سلمان علی ہوں گے جو اسپن بولنگ کے قابل اعتماد آپشنز ہیں۔
قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن نے یہ بھی کہا کہ فہیم اشرف کا تجربہ اور موجودگی ہمیں فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر کا آپشن فراہم کرتی ہے۔ فخر زمان کی واپسی ہمارے ٹاپ آرڈر کے لیے اہم حوصلہ افزاء ہے، ان کا جارحانہ انداز اور میچ جیتنے کی صلاحیتیں ہمارے منصوبوں کے لیے اہم ہیں۔
اسد شفیق کہتے ہیں کہ اسی طرح سعود شکیل کو بیٹنگ کو مزید تقویت دینے اور ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی بھرپور فارم سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ وہ ایک تجربہ کار، ذہین اور سمجھ بوجھ والے بیٹر ہیں جو اپنی اننگز کو سوچ سمجھ کر بناتے ہیں اور پارٹنرشپ بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔
سلیکشن کمیٹی کے رکن نے بتایا کہ فخر کا اوپننگ پارٹنر بابر اعظم یا سعود شکیل ہوسکتے ہیں، اس کا انحصار کنڈیشنز، حریف ٹیم اور میچ کی حکمت عملی پر ہوگا۔ دونوں کھلاڑی ٹاپ آرڈر میں انتہائی قابل ہیں جب کہ بابر خاص طور پر اس کردار میں تجربہ کار ہیں، وہ باقاعدگی سے ٹی ٹوئنٹی میں کھیل رہے ہیں اور کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں بھی صائم ایوب کی غیر موجودگی میں دو نصف سنچریاں بنا کر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔

صائم ایوب پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں ٹخنے کی انجری کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے لیکن ہم ان کی صحت یابی کے لیے پرامید ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 کا کتنا انتظار کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ عالمی ایونٹ سے محروم ہونا صائم ایوب کے لیے کتنا تکلیف دہ ہوگا، خاص طور پر جب وہ اس طرح کی غیر معمولی بیٹنگ فارم میں ہوں۔ تاہم ہماری ٹیم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ کے طور پر ہم کسی بھی جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے ان کی طویل مدتی صحت کو ترجیح دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 سے قبل نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف سہ ملکی ون ڈے سیریز نہ صرف تیاری کے طور پر کام کرے گی بلکہ مسابقتی حالات میں ہماری حکمت عملی کو بہتر بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرے گی۔
سہ ملکی سیریز پر ان کا کہنا تھا کہ ہوم گراؤنڈ پر چیمپئنز ٹرافی کا دفاع کرنے سے پہلے کھلاڑیوں کو فائنل ٹچ اپ دینے کا یہ بہترین موقع ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ اسکواڈ نوجوان اور تجربے کے درمیان صحیح توازن قائم کرتا ہے اور اس میں تمام بنیادی باتیں شامل ہیں۔
اسد شفیق نے کہا کہ ہر کھلاڑی کا انتخاب ایک واضح کردار کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کپتان کے پاس ورسٹائل آپشنز موجود ہوں۔ پاکستان ون ڈے اسکواڈ پیر 3 فروری کو لاہور میں جمع ہوگا۔
سہ ملکی ون ڈے سیریز اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے پلیئر سپورٹ اسٹاف:
نوید اکرم چیمہ (ٹیم منیجر)، حنا منور (ٹیم آپریشنز منیجر)، عاقب جاوید (عبوری ہیڈ کوچ)، اظہر محمود (اسسٹنٹ کوچ)، شاہد اسلم (بیٹنگ کوچ)، محمد مسرور (فیلڈنگ کوچ)، عبدالرحمن (اسپن بولنگ کوچ)، کلف ڈیکن (فزیو تھراپسٹ)، ڈریکس سیمن (اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ)، طلحہٰ بٹ (انالسٹ)، ارتضیٰ کمیل (سیکیورٹی مینجر)، ڈاکٹر واجد علی رفائی (ٹیم ڈاکٹر)، سرجیو باسل ملینز (مسیور) اور سید نعیم احمد (میڈیا اینڈ ڈیجیٹل منیجر)۔
آنے والے ون ڈے میچز
8 فروری: بمقابلہ نیوزی لینڈ۔ لاہور (سہ فریقی ون ڈے سیریز)
12 فروری: بمقابلہ جنوبی افریقہ۔ کراچی (سہ فریقی ون ڈے سیریز)
19 فروری: بمقابلہ نیوزی لینڈ۔ کراچی (آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی)
23 فروری: بمقابلہ انڈیا۔ دبئی (آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی)
27 فروری: بمقابلہ بنگلا دیش۔ راولپنڈی (آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی)۔


















